عراق: بم حملے میں اڑتیس افراد ہلاک

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی شہر کرکوک میں ایک بم حملے میں اڑتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے ایک کیفے میں ہوا۔ اس حملے میں چھبیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل جمعرات کو عراق میں چوبیس گھنٹوں میں متعدد بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے بیشتر سکیورٹی اہلکار تھے۔

شمال مشرقی بغداد میں مقدادیہ کے مقام پر ایک جنازے پر دو بم حملوں میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

دوسری طرف انبار صوبے میں سکیورٹی فورسز پر ایک حملے میں چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے لے کر اب تک پرتشدد حملوں میں دو ہزار پانچ سو عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں گذشتہ چند سالوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جون دو ہزار آٹھ سے لے کر اب تک کا بدترین مہینے مئی دو ہزار تیرہ رہا ہے۔

حملوں کا یہ تازہ ترین سلسلہ اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ عراق میں شیعہ اور سنّی برادریوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ سنّی برادری کا دعویٰ ہے کہ وزیرِاعظم نوی المالکی کی حکومت ان کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔

کرکوک میں ہونے والے حملے کی اب تک کسی گروہ نے ذمہ داری فبول نہیں کی ہے۔

کرکوک کے علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں اور اس شہر کی آبادی میں ترک، عرب اور کرد افراد شامل ہیں۔

بم حملے کے جائے وقوع کے قریب ایک اور کیفے کے مالک یحیٰ عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ آج ہمیں کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن پر آج یہ حملہ کیا گیا ہے وہ کرکوک کے لوگ تھے اور ان کا تعلق تمام عناصر سے تھا۔‘

اسی بارے میں