دوحا میں طالبان کا دفتر بند کیوں ہوا؟

دوہا میں طالبان کا دفتر
Image caption طالبان کا دفتر کھلنے کے دو دن بعد ہی قطری حکام نے اس عمارت پر سےطالبان کا پرچم اور نمبر پلیٹ ہٹا دی

حالیہ دنوں میں ایسی رپورٹوں کے بعد کہ طالبان نے دوحا میں اپنا دفتر بند کر دیا ہے طالبان، امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔

دوحا میں ہونے والے مذاکرات کا آغاز اچھا نہیں رہا اور جون میں اس دفتر کے کھلنے کے بعد در حقیقت طالبان نے اس دفتر کو کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔

ابتدا میں افغان صدر حامد کرزئی نے دوحا میں دھوم دھام سے طالبان کا دفتر کھولے جانے پر شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے فوری طور پر اس دفتر کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور طالبان کے نمائندوں سے ملنے کے لیے جانے والے افعان امن کونسل کے اراکان کے دورے کو ملتوی کر دیا۔

صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہے اور طالبان کو ایک متبادل حکومت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کرزئی کی ناراضی کے بعد امریکہ نے بھی قطری حکام پر زور ڈالا کہ اس عمارت سے طالبان کے جھنڈے کو ہٹایا جائے۔

اس کے علاوہ امریکہ یہ بھی چاہتا تھا کہ عمارت پر لگی اس پلیٹ کو بھی ہٹایا جائے جس پر اسلامک ایمریٹس آف افغانستان لکھا ہوا تھا یہ وہ نام ہے جو 1990 کی دہائی میں طالبان نے اپنے دورِاقتدار میں استعمال کیا تھا۔

طالبان کا دفتر کھلنے کے دو دن بعد ہی قطری حکام نے اس عمارت پر سےطالبان کا پرچم اور نمبر پلیٹ ہٹا دی جس سے طالبان کا محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے اور ان کے سبکی ہوئی۔

پرچم اور پلیٹ ہٹائے جانے کے بعد سے وہ عمارت میں داخل نہیں ہوئے اور اب یہ تمام فریق کے لیے انا کا مسئلہ بن گیا ہے جو اب ایک دوسرے کے بولنے کے منتظر ہیں۔

امریکہ اور افغان حکومت اب اس بات کے منتظر ہونگے کہ کیا اب طالبان نئی شرائط کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہونگے اور ادھر طالبان یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا امریکہ اور افغان حکومت ان کی شرط پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں وہ اپنے دفتر کی عمارت پر اپنا پرچم اور پلیٹ واپس لگانا چاہتے ہیں۔

اس صورتِ حال میں ایک ایسے حل کی ضرورت ہے جو تمام فریق کے لیے قابلِ قبول ہو اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان اپنا پرچم اور نمبر پلیٹ زیادہ نمایاں طور پر نہ لگائیں دفتر کے اندر لگائیں جس سے اس عمارت پر سفارت خانہ ہونے کا شبہ نہیں رہے گا۔

Image caption افغان حکومت اور امریکہ نے شاندار انداز میں طالبان کا دفتر کھولے جانے کی تنقید کی تھی

افغان حکومت کا اصرار ہے کہ اس عمارت کا استعمال صرف امن مذاکرات کے لیے کیا جائے اور طالبان اسے ایک جِلاوطن حکومت کے دفتر کے طور پر استعمال نہ کریں۔

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مذاکرات افغان امن کونسل اور طالبان کے منتخب نمائندوں کے درمیان آمنے سامنے ہوں۔

افغان حکومت کے مطابق ابتدائی رابطوں کے بعد مذاکرات افغانستان میں ہی کیے جائیں اور دوسرے اور تیسرے مرحلے کے مذاکرات افغانستان میں ہی ہوں۔

دوسری جانب طالبان میں بھی ان مذاکرات پر اندر ہی اندر بحث جاری ہے۔

طالبان کی صفوں میں خاص طور پر فیلڈ کمانڈر اس خیال کے ہی خلاف ہیں ان کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ میں طالبان حاوی ہیں اور نیٹو افواج بھی جانے والی ہیں۔

کئی طالبان کے مطابق افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی ہی ان کی لڑائی کی وجہ ہے۔

طالبان نے دوحا میں یہ دفتر یہ دکھانے کے لیے کھولا تھا کہ وہ کوئی بے قابو باغی نہیں ہیں بلکہ ایک سیاسی طاقت ہیں طالبان بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

شروع سے ہی طالبان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں امریکہ ہی اس لڑائی میں اصل فریق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں بھی سبھی کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں جس میں حکومت اور امن کونسل بھی شامل ہے لیکن ان کے خیال میں یہ اتنا ضروری نہیں ہے یہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے جو بعد میں حل کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں