سنوڈن کی درخواست، اوباما کا پوتن کو فون

Image caption سنوڈن نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایئر پورٹ پر ٹرانزٹ ایریا میں حقوق انسانی کے عہدیداروں سے ملاقات کی

امریکہ کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے معاملے پر امریکی صدر براک اوباما اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔

اس سے پہلے سنوڈن نے کہا تھا کہ وہ روس سے سیاسی پناہ کی درخواست کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کی اپنے روسی ہم منصب سے جمعہ کی رات ٹیلی فون پر بات ہوئی تاہم اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بات چیت پہلے سے طے شدہ تھی اور اس میں سنوڈن اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔

اس سے پہلے امریکہ نے روس کو خبردار کیا تھا کہ سنوڈن کو پناہ دینے پر رضامندی کا مطلب’ پروپیگنڈا‘ کے لیے پلیٹ فام مہیا کرنا ہے۔

سنوڈن نے ماسکو کے ہوائی اڈے پر حقوق انسانی کی تنظیموں کے نمائندوں اور اپنے وکیل سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات میں سنوڈن تقریباً تین ہفتوں کے بعد منظرعام پر آئے ہیں اور اس میں انہوں نے کہا کہ وہ روس میں سیاسی پناہ چاہتے ہیں کیونکہ لاطینی امریکہ کے جن ممالک نے انہیں پناہ کی پیشکش کی ہے، وہاں وہ جا نہیں سکتے ہیں۔

اس سے پہلے سنوڈن روس میں سیاسی پناہ کی درخواست سے اس وقت دستبردار ہو گئے تھے جب روسی حکومت نے کہا تھا کہ انہیں اس صورت میں خفیہ معلومات افشا کرنے کا سلسلہ ترک کرنا ہو گا۔

ماسکو کے شیرمینتیوف ایئر پورٹ پر سنوڈن کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے عہدیداروں سے ہونے والی ملاقات میں شریک روس کے قانون دان وچیسلوف نیکونوف کے مطابق سنوڈن نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ روس میں مستقل یا عارضی پناہ چاہتے ہیں۔

’انہوں نے کہا کہ وہ روس میں پناہ چاہتے ہیں تاکہ آزادی سے نقل و حرکت کر سکیں۔‘

وچیسلوف نیکونوف کے مطابق’سنوڈن کا ہوائی اڈے پر قیام ان کے لیے بلکل فائدہ مند ہے کیونکہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے لیکن وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہو۔‘

جمعہ کو روسی حکام نے تصدیق کی تھی کہ امریکہ کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے ماسکو میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن نے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی اہم تنظیموں کو ملاقات کے لیے ایک ای میل بھیجی۔

تیس سالہ سنوڈن نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکی حکومت ان کی سیاسی پناہ کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ’غیر قانونی مہم‘ چلا رکھی ہے۔

ان کے پیغام میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ چونکہ سکیورٹی بہت سخت ہوگی اس لیے جو لوگ اس میٹنگ میں شریک ہونا چاہتے ہیں انہیں دعوت نامہ کی کاپی اور شناختی کارڈ ساتھ لانا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے حال ہی میں امریکہ میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ اور فون کالوں کی نگرانی کے پروگرام پرزم کے بارے میں راز افشاء کیے تھے جس کے بعد سے غداری کے مقدمے میں وہ امریکہ کو مطلوب ہیں۔

اسی بارے میں