’برما تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دے گا‘

Image caption برما کے صدر تھان سین برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں

برما کے صدر تھان سین نے کہا کہ برما میں رواں سال کے آخر تک تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔انھوں نے اس بات کا اعلان برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا ہے۔

مارچ 2010 میں تھان سین نے برما کا صدر منتخب ہونے کے بعد سے اب تک سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔برما میں سیاسی قیدیوں کی رہائی ملک میں جاری سیاسی اصلاحات کا حصہ ہیں۔

صدر تھان سین نے کہا ’سال کے آخر تک برمامیں کوئی بھی ضمیر کا (سیاسی) قیدی نہیں ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ برما میں ہر سیاسی قیدی کے مقدمے کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

برما کے صدر تھان سین ان دنوں برطانیہ میں ہیں جہاں وہ تجارت اوردفاعی تعلقات پر بات چیت کر رہے ہیں۔برما کی حکومت چاہتی ہے کہ مغربی ممالک معشیت کی ترقی کے لیے برما میں سرمایہ کاری کریں۔

برطانوی وزیراعظم نے صدر تھان سین سے ملاقات کے دوران برما میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر کرنے پر زور دیا ہے۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ برما میں مقیم مسلمان روہنگیا اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک پر فکر مند ہیں۔

گزشتہ سال برما میں رخائن ریاست میں قرقہ ورانہ فسادات کے دوران دو سو افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے اور ہلاک ہونے والوں میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی۔

برما میں حکام مسلمانوں کے حقوق کے دفاع اور اُن کے خلاف مظالم روکنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ روہنگیا مسلمان غیر قانونی طور پر ہجرت کر کے برما آئے اس لیے آئین کے تحت اُنھیں شہریت نہیں دی جا سکتی ہے۔

صدر تھان سین نے سنہ 2010 کے انتخابات کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر اصلاحات شروع کیں ہیں۔ جس کے بعد برما میں ذرائع ابلاغ کو آزادی ملی ہے اور کئی سیاسی قیدیوں کو رہا بھی کیا گیا ہے۔

آنگ سان سو چی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 2010 میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد اب سیاست میں دوبارہ حصہ لیا ہے اور اُن کی ایوان میں نمائندگی بہت کم ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں برما پر عائد بین الااقوامی پابندیوں میں نرمی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں