چین کی معاشی نمو میں مزید کمی

Image caption چینی شرحِ نمو میں کمی کی ایک وجہ دنیا میں چینی مصنوعات کی مانگ میں کمی ہے

چین کی معاشی نمو میں اپریل تا جون کے دوران معاشی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ لگاتار دوسری سہ ماہی ہے جس میں چین کی نمو میں گراوٹ آئی ہے۔

چین اس وقت امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس میں اپریل تا جون کی سہ ماہی میں 7.5 فیصد کی نمو ہوئی، جب کہ جنوری تا مارچ میں یہ شرح 7.7 فیصد تھی۔

ماہرین پہلے ہی سے ان اعداد و شمار کی توقع کر رہے تھے۔

چین میں عشروں تک زبردست ترقی کے بعد اب ماہرین کہتے ہیں کہ حکام کم ہوتی ہوئی شرحِ نمو کو تسلیم کرنے پر تیار ہیں۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سست شرحِ نمو کی وجہ کمزور تجارت اور حکام کی جانب سے بینکوں کے قرضوں پر قدغنیں لگانا ہے۔

معاشیات دان رین شیان فینگ نے کہا: ’اس وقت چین کی مجموعی قومی پیداوار مسلسل پانچ سہ ماہیوں سے آٹھ فیصد سے کم جا رہی ہے جو واضح طور پر مصیبت کی علامت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’نمو میں تیزی سے آنے والی کمی اور مالیاتی منڈی میں حالیہ اضطراب سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی اور اصل سامان دونوں شعبوں میں خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔‘

حکومت نے سال 2013 کے لیے 7.5 فیصد کا ہدف مقرر کیا ہے جو دو عشروں میں سب سے کم شرحِ نمو ہو گی۔

تاہم ماہرین کو شبہ ہے کہ آیا حکومت کی طرف سے کسی امدادی پیکج کے بغیر یہ ممکن ہو سکے گا۔

قومی ادارہ برائے شماریات کا کہنا ہے کہ ’بڑے اشاریے ہماری تعین کردہ حد کے اندر ہیں، تاہم ہمیں پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا ہے۔‘

چین کے حکام نے متعدد بار کہا ہے کہ ان کا طویل مدتی ہدف معیشت کو برآمدات پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور سرمایہ کاری سے نکال کر اور صارفین کے خرچ کی طرف لے کر جانا ہے۔

2012 میں چین کی شرحِ نمو 7.8 فیصد تھی، جو گذشتہ 13 برسوں میں اس کی بدترینِ شرحِ نمو تھی۔

اسی بارے میں