مصر: قاہرہ میں جھڑپیں، سات مظاہرین ہلاک

Image caption مصر کے معزول صدر مرسی کے حامیوں نے عبوری حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ مرسی کو ہر حال میں بحال کیا جائے

قاہرہ میں مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے سینکڑوں حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں گذشتہ شب مزید سات مظاہرین کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پیر کو ہونے والی جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سینکڑوں ناراض مظاہرین نے مرکزی پل کو بند کر دیا۔ تاہم بعد میں اس پل کو دوبارہ کھول لیاگیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر پھینکے اور ایک سڑک کو مختصر وقت کے لیے بند کر دیا۔

یہ جھڑپیں اس وقت ہوئی ہیں جب مصر میں موجود امریکی مندوب ولیم برنز نے کہا تھا کہ جمہوریت کو ’دوسرا موقع‘ دینا چاہیے۔

انھوں نے مصر کے نئے عبوری رہنماؤں سے ملاقات کی لیکن انھیں مرسی کی اخوان المسلمین سمیت کئی جماعتوں کی جانب سے سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل محمد مرسی کے 50 سے زائد حامی اس عمارت کے باہر جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے جہاں شبہ ہے کہ سابق صدر کو رکھا گیا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو فوجی بغاوت کے نتیجے میں معزول کر دیا گیا تھا جسے بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل تھی۔

اس سے قبل مرسی کے حامیوں کے بڑے گروہ رابعہ العدویہ مسجد کے باہر جمع ہوئے، جہاں وہ مرسی کے بحالی کے لیے مسلسل دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ قاہرہ یونیورسٹی میں بھی مظاہرے ہوئے۔

بعض لوگوں نے نعرے لگائے: ’سیسی، نکل جاؤ۔‘ جنرل عبدالفتح السیسی فوج کے سربراہ ہیں جنھوں نے مرسی کا تختہ الٹنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

اسی دوران حکام نے کہا ہے کہ مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں نے شمالی سینا میں ایک بس پر حملہ کیا ہے جس میں ایک سیمنٹ فیکٹری کے مزدور سفر کر رہے تھے۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے۔

امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیم برنز نے عبوری صدر عدلی منصور، وزیرِاعظم حازم الببلاوی اور جنرل السیسی سے ملاقاتیں کیں۔

انھوں نے گذشتہ دو ہفتوں کے واقعات کو ’انقلاب کا وعدہ نبھانے کا دوسرا موقع‘ قرار دیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں سابق صدر حسنی مبارک کا طویل دورِ اقتدار ختم ہو گیا تھا۔

انھوں نے فوج پر زور دیا کہ وہ سیاسی گرفتاروں سے پرہیز کریں اور کہا کہ امریکہ مصر کا ساتھ نبھانے کے لیے پرعزم ہے اور وہ ’مستحکم، جمہوری، سب کو ساتھ لے کر چلنے والا اور تحمل پسند‘ مصر دیکھنا چاہتا ہے۔

تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ ’امریکہ کسی کو لیکچر دیکھنے نہیں آیا۔ ہم مصر پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔‘

اسی دوران نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں دھڑوں کے مصریوں کے اندر امریکہ کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ مصر کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد فراہم کرتا ہے جس کا بیشتر حصہ فوج پر خرچ ہوتا ہے۔

برنز نے کہا کہ وہ اپنے دو روزہ دورے میں مذہبی رہنماؤں، سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، سول رہنماؤں اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

تاہم قدامت پرست جماعت سلفی النور اور مرسی مخالف جماعت تمرد نے کہا ہے کہ انھوں نے برنز سے ملنے کی دعوت ٹھکرا دی ہے، جب کہ اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ ان کا برنز سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکہ نے مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو ابھی تک زیرِحراست ہیں۔ ان کی جماعت اخوان المسلمین نے مطالبہ کیا ہےکہ انھیں رہا کر دیا جائے، اور یہ کہ ان کی معزولی بغاوت تھی۔

اسی بارے میں