مینڈیلا کے بچوں کی جائے تدفین پر تنازع

Image caption مینڈیلاکی عمر94 برس ہے اور وہ خاصے عرصے سے علیل ہیں

جنوبی افریقہ کے 94 سالہ سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی ایک پوتی ندیلکا مینڈیلا کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے خاندان میں جاری کشیدگی پر افسوس ہے۔

سابق صدر نیلسن مینڈیلا اس وقت شدید بیمار ہیں اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

سابق صدر کے خاندان والے نیلسن منڈیلا کے تین بچوں کی لاشوں کی تدفین کے معاملے میں منقسم رائے رکھتے ہیں۔

ندیلکا مینڈیلا نے سابق صدر کی پچانویں سالگرہ سے قبل بی بی سی سے بات کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بیماری سے نمٹنا ان کے خاندان کے لیے کتنا مشکل رہا ہے۔

نیلسن منڈیلا کے بچوں کی لاشوں کی تدفین کے معاملے میں مینڈیلا خاندان کے سولہ رکن جن میں ان کی بیوی گراکا ماغیل بھی شامل ہیں اور مقامی سربراہان کا سامنا مینڈیلا کے سب سے بڑے پوتے اور ان کے قبیلہ کے سربراہ مانڈلا مینڈیلا سے ہے۔

تین جولائی کو مینڈیلا خاندان والے متھاتھا ہائی کورٹ میں گئے تاکہ نیلسن منڈیلا کے تین بچوں کی لاشوں کو ان کی قبروں سے نکال کر ان کے آبائی قصبے کونو میں واپس لے جایا جا سکے۔

مانڈلا مینڈیلا نے دو سال قبل دیگر خاندان والوں سے پوچھے بغیر ان لاشوں کو کونو سے نکال کر اپنے قصبے ایمویزؤ منتقل کر دیا تھا۔

عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مانڈلا نے اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا تاکہ سابق صدر نیلسن منڈیلا بھی وہیں دفن کیے جائیں۔

ندیلکا مینڈیلا کا کہنا ہے کہ یہ تنازع افسوس ناک ہے تاہم چونکہ ’خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے‘، ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا خاندان ٹوٹے گا نہیں۔

انہوں نے کہا ’یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے ہم منظرِ عام پر نہیں لانا چاہتے تھے مگر ہماری شناخت کی وجہ سے یہ سب کے سامنے آیا۔‘

مانڈلا مینڈیلا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہم اسے کھبی بھی معاف نہیں کریں گے مگر ابھی مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔‘

ندیلکا مینڈیلا کو ایک اور اعتراض یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اُن سے اور سابق صدر کے خاندان سے اُن کی صحت کے بارے میں ایسے سوالات پوچھتے ہیں وہ درد ناک ہوتے ہیں۔

ادھر مانڈلا مینڈیلا کا کہنا ہے کہ آج کل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی اٹھ کر آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مینڈیلا خاندان سے ہوں۔

یاد رہے کہ نیلسن مینڈیلا پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث پچھلے کئی روز سے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

گذشتہ دو برسوں میں مینڈیلا پانچ بار ہسپتال جا چکے ہیں۔ اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

نیلسن مینڈیلا نسلی امتیاز کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے، اور انھیں بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے۔

مینڈیلا نے دوران 20 سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انھیں فروری 1990 میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نیلسن مینڈیلا 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انہوں نے 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

اسی بارے میں