سوات سے ویانا

خانقاہ کے پناہ گزین
Image caption ’یہ سسٹم طالبان سے بھی برا ہے، وہ تو ڈائریکٹ بندے کو مار دیتے ہیں، یہ آہستہ آہستہ مارتے ہیں‘

پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے کئی نوجوان ملک چھوڑ کر محفوظ ممالک میں پناہ کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے بھاگ کر سیاسی پناہ لینے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ میں نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پناہ کے طلب گار ان نوجوان سے ملاقات کی جو ایک عیسائی خانقاہ میں گزشتہ سات ماہ سے اپنی پناہ کی درخواستوں کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔

یہ لوگ یہاں کیسے پہنچے اور چرچ نے انہیں کیسے پناہ دی۔ میں نے ویانا جا کر ان سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی۔ جو کچھ انہوں نے بتایا وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ لیکن ہر کسی کی غم کی داستان کا تانا بانا دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے۔

میری سب سے پہلے ملاقات سوات کے رہائشی خان عدالت سے ہوئی۔ یہاں اس جگہ سب پناہ گزین ان کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ہی ان کی دربدری کی داستان عیاں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا سفر دو ہزار پانچ سے شروع ہوا۔ جب ان کے علاقے میں طالبان نے کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔ اس کے بعد وہ غیر قانونی طور پر یونان آ گئے اور سنہ دو ہزار گیارہ تک یونان ہی میں رہے۔جب وہاں پناہ گزینوں پر نسل پسندوں نے حملے شروع کر دیے تو ان کو وہاں سے بھی ہجرت کرنا پڑی۔

خان عدالت کہتے ہیں کہ ان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے اور ان کے خاندان والوں اور کئی دوستوں کو طالبان نے ہلاک کر دیا ہے۔ سکولوں کو تباہ کر دیا اور گھروں کو برباد کر دیا۔

’ہم نے حکومت کی حمایت کر کے کافی بڑی قربانی دی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ وہ اپنا ملک چھوڑے لیکن مجبوری کے تحت یہ کرنا پڑا اور یہ لوگ (آسٹرین حکام) ہماری قربانیوں کا صلہ اس طرح دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’وہ سسٹم مجھے بندوق سے مار رہا ہے اور یہ سسٹم مجھے پین سے مار رہا ہے۔مجھے اس میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

یہ پناہ کے طلب گار یونان میں فسادات کے بعد آسٹریا میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے ہوئے پکڑے گئے۔جہاں انہیں مختلف کیمپوں میں رکھا گیا۔ کیمپوں میں اپنے ساتھ ہونے والے برے سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے یہ لوگ آسٹریا کے انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے اراکین کے ہمراہ بیس پچیس میل کی مسافت پیدل طے کر کے ویانا پہنچ گئے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے میر جہانگیر کیمپ سے آنے کا حال بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے سخت سردی میں ویانا کے ایک پارک میں احتجاج کیا لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ ’اس کے بعد جب ہم لوگ ویانا کے بڑے چرچ میں گھس گئے اور بھوک ہڑتال شروع کی تو پھر بھی صرف ان کو یہ فکر تھی کہ ہمارے چرچ میں رہنے سے ان کی بدنامی ہو رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہاں سالہا سال لگ جاتے ہیں پناہ لینے میں۔ ان سالوں میں نہ تو آپ کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے، نہ کوئی کام کرنے کی اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھنے کی۔

’یہ سسٹم طالبان سے بھی برا ہے، وہ تو ڈائریکٹ بندے کو مار دیتے ہیں، یہ آہستہ آہستہ مارتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ویانا سے پچیس کلومیٹر دور تراسکیرخن کیمپ میں کل پندرہ سو آدمی تھے اور بہت رش تھا۔ ایک کمرے میں پچیس تیس بندے رہ رہے تھے، کھانے کا فکس ٹائم تھا اور اگر کبھی آپ دس منٹ بھی لیٹ ہوتے تو کھانا نہیں ملتا۔ کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے غصے میں کہا کہ ’یا ہم انسان نہیں ہیں اور انسانی حقوق کی مد میں نہیں آتے یا پھر ان لوگوں میں انسانیت نہیں ہے۔‘

گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان سے بڑی تعداد میں لوگ محفوظ ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ویانا کی اس موناسٹری میں پارا چنار، سوات، خیبر ایجنسی، اور وزیرستان کے کئی لوگوں سے ملا۔

شمالی وزیرستان کے وزیر محمد آصف ان میں سے ایک ہیں۔ طالبان نے ان کو اور ان کے بھائی کو اغوا کیا۔ محمد آصف تو ان کی گرفت سے بچ کر آ گئے لیکن ان کے بڑے بھائی مارے گئے۔

’طالبان سمجھتے تھے کہ میں اور میرا بھائی جاسوس ہیں اور ان کے گھروں میں ڈرون حملوں کے لیے چپ پھینکتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بہت مارا۔ میں تو ایک جاننے والے طالب کی وجہ سے بچ گیا لیکن میرا بھائی نہ بچ سکا۔ اسے انہوں نے مار دیا۔‘

اس کے بعد بھی طالبان نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور ان کے گھر پر گرینیڈ پھینکا جس سے آنے والے زخم کا نشان وزیر محمد نے مجھے اپنی کمر پر دکھایا۔ اس کے بعد ان کے رشتہ داروں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ملک سے بھاگ جائیں اور یورپ میں کہیں پناہ لے لیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پناہ کی تلاش میں یورپ آئے پاکستانیوں نے کسی چرچ میں پناہ لی ہو۔سنہ دو ہزار ایک میں سپین کے شہر بارسیلونا میں بھی پناہ گزین اسی طرح ایک چرچ میں گھس گئے تھے جہاں چرچ انتظامیہ نے انہیں سہارا دیا تھا۔

آسٹریا میں چرچ انتظامیہ جو کہ کئی ماہ سے ان کو پناہ دیے ہوئے ہے اب محسوس کرتی ہے کہ کبھی نہ کبھی ان کو یہاں سے جانا ہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی چرچ حکام کے دل میں ان کے لیے نرم گوشہ بھی موجود ہے۔

ویانا کے بڑے چرچ کے کارڈینل کے ترجمان مائیکل پرولر کہتے ہیں کہ پناہ گزینوں کے حوالے سے دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

’میں کہتا ہوں کہ انہیں یہاں رہنے دیا جائے، کیونکہ اگر وہ واپس جاتے ہیں تو ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اگر وہ ملک کے ایک مغرب میں نہیں رہ سکتے تو مشرق میں چلے جائیں۔ اس پر ہم بطور چرچ سوال اٹھاتے رہے ہیں۔‘

آسٹریا کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کارل ہائنز گرنڈبوک کہتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں لیکن ان کے پناہ گزینوں سے متعلق قوانین ہیں اور وہ اس سے زیادہ نہیں کر سکتے۔

’پاکستان کے پناہ گزینوں کے حوالے سے ہم صرف ان کی ایک اعشاریہ پانچ فیصد درخواستوں پر مثبت فیصلہ دیتے ہیں۔ اس کا یقیناً انحصار انتظامیہ کے فیصلوں پر ہے۔

گزشتہ ہفتے آسٹریا کے آئینی ہائی کورٹ نے پناہ گزینوں کی عدالت کے ایک فیصلے کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کے متعلق پرانی معلومات سامنے رکھی گئیں تھیں اور نئی حقیقتوں کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا تھا۔

جب میں جون میں ان نوجوانوں سے ویانا میں ملا تھا تو وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ انہیں خانقاہ خالی کرنے کا کہا گیا تھا۔ لیکن اب انہیں اکتوبر تک یہاں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اکتوبر کے بعد کیا ہو گا یہ کوئی نہیں جانتا لیکن ویانا کی اس خانقاہ میں رہنے والے نوجوان بس یہ جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں واپس جانے کی سبھی کشتیاں جل چکی ہیں۔

اسی بارے میں