’پناہ گزین اب آسٹریلیا میں نہیں بس سکتے‘

Image caption کشتیوں کی مدد سے آنے والے پناہ گزینوں کا مسئلہ برسرِاقتدار لیبر پارٹی کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے

آسٹریلیا کے وزیراعظم کیون رڈ نے کہا ہے کہ اب ان کے ملک میں بحری راستے سے آنے والے پناہ کے طالب افراد کو وہاں بسنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آسٹریلوی وزیراعظم کے مطابق یہ فیصلہ ان کی نئی امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کیون رڈ نے بتایا کہ اب ان غیرقانونی تارکینِ وطن کو جنوبی بحرالکاہل میں واقع ملک پاپوا نیو گنی میں بسایا جائے گا اور اس سلسلے میں انہوں نے پاپوا نیو گنی کے وزیراعظم کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا ہے۔

اس معاہدے پر جمعہ کو آسٹریلیا کے ساحلی شہر برسبین میں آسٹریلوی وزیراعظم اور پاپوا نیو گنی کے وزیراعظم پیٹر اونیل نے دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت آسٹریلیا اپنے ساحلوں پر پناہ کی تلاش میں اترنے والے افراد کو پاپوا نیوگنی بھیج دے گا۔

آسٹریلیا کے وزیر برائے امیگریشن ٹونی برک نے کہا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق معاہدے کے پر دستخط کے فوراً بعد ہوگیا ہے۔

اس معاہدے کا مقصد پناہ کے حصول کے لیے آسٹریلیا کا رخ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

ہر سال پسماندہ اور جنگ زدہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد مچھلیاں پکڑنے والی چھوٹی کشتیوں کی مدد سے سمندر کے راستے بہتر مستقبل کی تلاش میں آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر اس عمل کے دوران اپنی جانوں سے بھی جاتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں میں جب آسٹریلیا میں دو ماہ میں انتخابات ہونے والے ہیں پناہ گزینوں کا مسئلہ ملک میں برسرِاقتدار لیبر پارٹی کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔

اسی بارے میں