عراق: سلسہ وار دھماکوں میں 30 افراد ہلاک

Image caption عراق میں حالیہ دنوں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

عراق میں حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد میں سسلسلہ وار کار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم 30 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے عراق کے تجارتی علاقوں میں ہوئے سنیچر کو افطار کے بعد ہوئے۔

پولیس کے مطابق کار بم دھماکے عراق کے تجارتی علاقوں میں اس وقت ہوئے جب لوگ افطار کے بعد کافی شاپس میں بیھٹے ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق ان دھماکوں میں کم سے کم 70 افراد زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کی رواں ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں اپریل سے جاری تشدد کی لہر میں 2,500 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں حالیہ تشدد کی لہر شیعہ اور سنی مسلکوں کے درمیان اختلاف کا نتیجہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 کے بعد سے یہ تشدد کی سب سے زیادہ لہر ہے۔

عراق کی سنی مسلک کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری مالکی کے زیر قیادت شیعہ حکومت انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔

اس سے پہلے عراق میں سنیچر کی دوپہر سنی مسلک کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق یہ بم دھماکہ دیالی صوبے کے وجیہیہ شہر میں ابو بکر الصادق مسجد میں ہوا اور اس میں تقریباً 40 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں