عراق میں مسجد پر حملے میں 20 ہلاک

Image caption عراق میں سنی مسلک کا الزام ہے کہ نوری مالکی کی شیعہ حکومت انھیں نشانہ بنا رہی ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ وسطی عراق میں سنی مسلک کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکہ دیالی صوبے کے وجیہیہ شہر میں ابو بکر الصادق مسجد میں ہوا اور اس میں تقریباً 40 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تشدد کے واقعات میں حالیہ اضافے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مسجدوں پر حملے بڑھے ہیں۔

اسی ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل سے جاری تشدد کی لہر میں ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس تازہ دھماکے میں ایک شخص نے خود کو اس وقت اڑا دیا جب امام خطبہ دے رہے تھے۔

اس دھماکے میں زخمی ہونے اولے عمر منضر نے بتایا: ’میں امام کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا اور مسجد میں درجنوں افراد جمع تھے تبھی ایک بڑا دھماکا ہوا اور مسجد میں اندھیرا چھا گیا۔‘

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’اس کے بعد میں نے خود کو ہسپتال کے بستر پر مزید زخمی لوگوں کے ساتھ پایا۔‘

Image caption عراق میں مسلکی تنازعات میں اضافے کے بعد مسجدیں حملوں کا نشانہ ہیں

دیالی مذہبی طور پر مخلوط مذہبی آبادی پر مبنی صوبہ ہے اور یہاں 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے شدید قسم کی فرقہ وارانہ جنگ دیکھی گئی ہے۔

صوبائی اہلکار صادق الحسینی نے کہا کہ اس دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عوام سے ضبط کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’دیالی میں تمام مسالک دہشت گردی کے نشانے پر ہیں اور بطور خاص شیعہ اور سنی مسالک کی مسجدیں، جنازے اور فٹ بال کے میدان ہیں۔ یہ صوبہ مسلکی جنگ کا اکھاڑہ بن کر رہ گیا ہے۔‘

حالیہ تشدد کی لہر عراق کے شیعہ اور سنی مسلکوں کے درمیان اختلاف کا نتیجہ ہے کیونکہ سنی مسلک کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری مالکی کے زیر قیادت شیعہ حکومت انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔

یاد رہے کہ تشدد کی حالیہ لہر امریکی فوج کے 2011 میں انخلا کے بعد سے اب تک کا بدترین تشدد ہے۔

اسی بارے میں