’انٹرنیٹ کمپنیاں فحش مواد کو بلاک کریں‘

Image caption ’ایک سیاستدان اور ایک باپ کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ اب اس حوالے سے کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اس بات کا اعلان کرنے والے ہیں کہ ملک میں انٹرنیٹ کے تمام صارفین کے لیے فحاشی کی ویب سائٹوں کو بلاک کیا جائے گا تاہم صارفین کے پاس یہ راستہ ہوگا کہ وہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں سے اپنے لیے یہ مواد کھلوا سکیں۔

اس کے علاوہ وزیرِاعظم یہ بھی اعلان کریں گے کہ ایسا فحش مواد رکھنا جس میں جبری جنسی زیادتی کی عکاسی کی گئی ہو جرم قرار دیا جائے گا جس کے بعد انگلینڈ میں بھی قوانین کی مطابقت سکاٹ لینڈ کے قوانین کے ساتھ ہوگی۔

یہ قوانین موجودہ اور نئے صارفین دونوں میں پر لاگو ہوں گے۔ اپنی تقریر میں وزیرِاعظم یہ بھی کہیں گے کہ آن لائن موجود فحش مواد بچپن تباہ کر دیتا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون یہ بھی مطالبہ کریں گے کہ انٹرنیٹ سرچ کے کچھ الفاظ کو ناکارہ بنا دیا جائے اور ایسے الفاظ پر گوگل اور دیگر سرچ انجنز کوئی نتائج نہ دکھائیں۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں اسے آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھیں گی جن کا موقف ہے کہ صارفین کو حق ہے کہ وہ کوئی بھی لفظ تلاش کریں۔

کیمرون اپنی تقریر میں کہیں گے کہ نئے صارفین کے لیے ’فیملی فرینڈلی فلٹر‘ از خود لگا دیے جائیں گے تاہم صارفین ان کو بند کروا سکیں گے۔

اس کے علاوہ لاکھوں موجودہ صارفین سے انٹرنیٹ کمپنیاں رابطہ کریں گی اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ یہ فلٹر اپنے اکاؤنٹ پر کارآمد بنانا چاہتے ہیں۔

ٹوری پارٹی کی رکنِ اسمبلی اور وزیرِاعظم کی بچوں کے جنسی استعمال اور تجارت کے معاملات پر مشیر کلیئر پیری نے بی بی سی کو بتایا کہ جو صارفین اس سوال کا جواب نہیں دیں گے، ان کے لیے فحش مواد از خود ہی بلاک کر دیا جائے گا۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہوگا کہ ’میں انٹرنیٹ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، یہ ہمارے بچوں کی معصومیت پر جو اثر ڈال رہا ہے، جس طرح انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد ہمارے بچوں کا بچپن تباہ کر رہا ہے۔ میں یہ تقریر لوگوں کو ڈرانے یا اخلاقی درس دینے کے لیے نہیں کر رہا۔ ایک سیاستدان اور ایک باپ کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ اب اس پر کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

بچوں کے انٹرنیٹ اور جنسی استحصال کے خلاف تحفظ کے ادارے کے سربراہ جم گیمبل نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ غیر قانونی فحش مواد کی بنیادی وجہ تک پہنچنا اہم ہے اور اس کے ذمہ داران کو پکڑنا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کو روک تھام کے لیے کوئی حقیقی اقدام کرنا ہوگا نہ صرف ایک پاپ اپ ونڈو جس کا مجرمان مذاق اُڑائیں۔‘

تاہم کلیئر پیری کا کہنا ہے کہ ان فلٹرز کی وجہ سے بہت فرق پڑے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اپریل جونز اور ٹیا شارپ نامی بچیوں کے قاتلوں نے پہلے قانونی فحش مواد تک رسائی حاصل کی اور پھر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی عکس بندی حاصل کی۔

انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی دوکان سے ایسا مواد حاصل کرنا غیر قانونی ہے تاہم ہر کمپیوٹر پر آپ روزانہ حاصل کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں