شرین دیوانی کو ملک بدری کا سامنا

Image caption دیوانی پر نومبر سنہ 2010 میں کیپ ٹاؤن کے گردو نواح میں اپنی بیوی کو مارنے کا منصبوبہ تیار کرنے کا الزام ہے

برطانوی شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والے بھارتی نژاد برطانوی شہری شرین دیوانی کو ہنی مون کے دوران اپنی بیوی عینی کو قتل کرنے کے شبہ میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کے حوالے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دیوانی پر نومبر سنہ 2010 میں کیپ ٹاؤن کے گردو نواح میں اپنی بیوی کو مارنے کا منصبوبہ تیار کرنے کا الزام ہے۔

دیوانی کی بیوی عینی کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

چیف مجسٹریٹ ہاورڈ ریڈل نے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں کہا کہ دیوانی کو جنوبی افریقہ واپس بھیج دینا چاہیے۔

دوسری جانب شرین دیوانی کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے وکیل اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

ڈسٹرکٹ جج ریڈل نے کہا ’سوال یہ نہیں کہ شرین دیوانی کو جنوبی افریقہ واپس بھیج دیا جائے گا، ان کا علاج جاری ہے اور امید ہے کہ وہ تندرست ہو جائیں گے‘۔

عدالت کے مطابق دیوانی کے علاج میں بہتری آئی ہے تاہم بہتری کا عمل سست ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کا علاج ہونے میں زیادہ وقت لگے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ اگر دیوانی کو اب جنوبی افریقہ بھیج دیا جائے اور وہاں مذید علاج کے بعد وہ تندرست ہو جائیں اور پھر مقدے کی کارروائی کی جائے۔

تینتیس سالہ کاروباری شخصیت دیوانی اس واقعہ کے بعد سے شدید ذہنی دباؤ میں ہیں اور برسٹل کے ایک ہسپتال میں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر دیوانی کو جنوبی افریقہ واپس بھیج دیا گیا تو ان کی دماغی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

دیوانی کے وکلا نے عدالت سے اس فیصلے کو ملتوی کرنے کی استدعا کی۔