جارج الیگزینڈر لوئی: نام میں کیا رکھا ہے!

Image caption برطانیہ کے مشہور بادشاہ جارج ہشتم، جارج پنجم اور جارج سوئم

ڈیوک اور ڈچز آف کیمبرج نے اپنے پہلے بچے کا نام جارج الیگزینڈر لوئی رکھا ہے۔ لیکن اس نام میں کون سی خاص بات ہے؟

یہ نام رکھنا ایک پرانی انگریزی کہاوت ’سٹے باز کبھی غلط نہیں ہوتے‘ کی جیت ہے۔ سٹے بازوں نے اس بات پر شرطیں لگائی تھیں کہ بچے کا نام کیا ہو گا۔ اس دوران سب سے مقبول نام جارج تھا جب کہ الیگزینڈر اور لوئی بھی زیادہ پیچھے نہیں تھے۔

نومولود کے تین ناموں میں آخری نام لوئی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بہت نمایاں ہے۔ لوئی سے انسان کے ذہن میں فوراً لوئی ماؤنٹ بیٹن کا نام آتا ہے جو شہزادہ فلپ کے چچا اور ہندوستان کے آخری وائسرائے تھے۔ انھیں آئی آر اے نے ایک بم حملے میں ہلاک کیا تھا۔

لوئی ماؤنٹ بیٹن کے والد کا نام بھی لوئی تھا اور وہ شہزادہ ولیم کے لکڑ دادا تھے۔ لوئی شہزادہ ولیم کا درمیانہ اور فرانس کے 17 بادشاہوں کا نام بھی ہے۔

اگر لوئی شاہی خاندان کے ایک طرف کو عزت دیتا ہے تو جارج واضح طور پر شاہی خاندان کے دوسرے حصے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

سینٹ جارج انگلینڈ کا سربراہ سینٹ ہونے کے باوجود جارج کا نام انگلینڈ میں جرمن بادشاہ جارج اول کی آمد کے بعد مقبول ہوا۔ یہ نام عرصے سے جرمنی میں کافی مشہور تھا اور اس کی جڑیں یونانی زبان سے ملتی ہیں۔

برطانوی شاہی خاندان میں اب تک چھ جارج گزر چکے ہیں جن میں ملکہ کے والد بھی شامل ہیں۔ جارج سوئم کے دور میں برطانیہ کو امریکہ سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

ان کے بیٹےجارج چہارم کو حد سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہیو لایوری نے اپنے مزاحیہ ڈرامے میں انھیں محدود ذہانت رکھنے والے بے وقوف شرابی کے طور پر پیش کیا ہے۔

حقیقی جارج واقعی شراب و شباب کا رسیا تھا لیکن فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھتا تھا اور اسے فروغ دینے کے لیے کام بھی کیا۔

ماضی قریب کے جارج پنجم نے دو عالمی جنگوں کے دوران برطانیہ پر حکمرانی کی۔ یہ جارج پنجم ہی تھا جس نے 1914 میں جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا، جس سے وہ اپنے عم زاد قیصر ولہلم کے مدِمقابل آ گئے تھے۔

Image caption ڈیوک اور ڈچز آف کیمبرج نے اپنے پہلے بچے کا نام جارج ایلیگزینڈر لوئس رکھا ہے

جارج پنجم نے جرمن مخالف جذبات کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے شاہی خاندان کا نام سیکس کوبرگ اینڈ گوتھا سے تبدیل کرکے ونڈزر کر دیا جو انگریزی کے زیادہ قریب ہے۔

یہ ان کے بیٹے جارج ہشتم تھے جن کی ہکلاہٹ کو فلم ’دا کنگز سپیچ‘ میں دکھایا گیا ہے۔

دوسری طرف الیگزینڈر کبھی بھی انگلینڈ یا برطانیہ کے بادشاہ کا نام نہیں رہا ہے جبکہ سکاٹ لینڈ کے تین بادشاہ اس نام سے گزرے ہیں۔

اس کے باوجود جو والدین اپنے بچے کا نام الیگزینڈر رکھتے ہیں تو شاید ہی ان کو الیگزینڈر کا نام کہنے کے فوراً بعد ’دا گریٹ‘ کا فقرہ نہ سننا پڑے۔

Image caption الیگزینڈر دا گریٹ کو دنیا کی تاریخ کا اعلیٰ ترین جرنیل سمجھا جاتا ہے

الیگزینڈر دا گریٹ یا سکندرِ اعظم دنیا کے اکثر حصے کو فتح کرنے کے لیے مشہور ہیں اور انھیں دنیا کے بہترین جرنیل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مقدونیہ کے بعد میں آنے والے دو حکمرانوں بھی الیگزینڈر تھا اور ان دونوں کو قتل کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ نام شاہی خاندانوں میں مقبول رہا۔

آخری کامیاب الیگزینڈر بازنطینی بادشاہ تھا۔ان کے بارے میں مورخ وائی کاؤنٹ نورِچ نے لکھا تھا: ’الیگزینڈر بادشاہ کی حکمرانی کے بارے میں واحد اچھی بات جو کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی حکمرانی بہت مختصر تھی۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ الیگزینڈر کی موت بہت زیادہ گرمی میں پولو کھیلنے سے واقع ہوئی۔ امید ہے نئے دور کے الیگزینڈر ان کی مثال پر توجہ دیں گے۔

اسی بارے میں