تیونس: سیاسی رہنما کے قتل پر مظاہرے

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں جمعرات کو حزب اختلاف کے رہنما کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جس کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنما 58 سالہ محمد براہمی موومنٹ آف پیپلز نامی جماعت کے سربراہ تھے۔ محمد براہمی دوسرے اہم رہنما ہیں جن کو اسل سال قتل کیا گیا ہے۔

ان کے قتل کے بعد لوگ تیونس سمیت دیگر شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے براہمی کے قتل کی مذمت کی تاہم کہا ’ہم حکومت کو ختم کرنے کے مطالبوں کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہو جائے گی۔‘

رواں سال فروری میں اہم سیاسی رہنما شکری بلعید کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور اس وقت کے وزیر اعظم حمادی الجبالی کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

براہمی کی جماعت موومنٹ آف پیپلز کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے براہمی کو اس وقت فائرنگ کر کے قتل کیا جب وہ گاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق براہمی کو گیارہ گولیاں لگیں۔

براہمی کے اہلخانہ نے حکمران جماعت النہضۃ پر ان کے قتل کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

اس واقعے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے ہسپتال کے باہر ان کی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے باہر میں مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔

اسی بارے میں