’نیوزی لینڈ میں رہنے کے لیے آپ بہت موٹے ہیں‘

Image caption ایمیگریشن حکام کے ترجمان نے کہا کہ البرٹ بیوٹن ہاییز کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کہ ان کے وزن کی وجہ سے انھیں خراب صحت کا سامنا ہے جس میں شوگر، ذہنی دباؤ اور دل کے امراض شامل ہیں

نیوزی لینڈ میں حکام نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو کہا ہے کہ زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے وہ نیوزی لنیڈ میں نہیں رہ سکتے۔

پیشے کے لحاظ سے البرٹ بیوٹن ہاییز ایک باروچی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے ایمیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ 130 کلوگرام وزن والے البرٹ بیوٹن ہاییز کا صحت کا معیار ناقابلِ قبول ہے۔

جنوبی افریقی باورچی نے چھ سال پہلے کرائٹس چرچ میں ہجرت کرنے کے بعد 30 کلو گرام وزن کم بھی کیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کو نیوزی لینڈ چھوڑنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ ان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جہاں موٹاپے کے شکار لوگوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ نیوزی لینڈ میں تقربیاً 30 فیصد لوگ موٹاپے کا شکار ہیں۔

البرٹ بیوٹن ہاییز اور ان کی اہلیہ مارتی 2007 میں جنوبی افریقہ سے کرائٹس چرچ منتقل ہو گئے تھے۔ اس وقت ان کا وزن 160 کلو گرام تھا۔

ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کے کام کرنے کے ویزا کی آسانی سے تجدید ہو جاتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر سال ویزے کی تجدید کے لیے درخواست دیتے تھے اور کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔‘

مارتی نے کہا کہ ’حکام نے کبھی البرٹ کے وزن یا صحت کی بات نہیں کی حالانکہ اس وقت ان کا وزن نسبتاً زیادہ تھا۔‘

لیکن مئی کے اوائل میں حکام نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کو بتایا کہ البرٹ بیوٹن ہاییز کے زیادہ وزن کی وجہ سے ان کو ویزا جاری نہیں کیا سکتا۔

مارتی کا کہنا تھا کہ ’تعجب کی بات یہ ہے کہ جب ہم نیوزی لینڈ پہنچے تو اس وقت البرٹ کا وزن زیادہ تھا لیکن ایمیگریشن حکام نے ان کی میڈیکل رپورٹ کو منظور کر لیا تھا۔‘

جوڑے نے نیوزی لینڈ کے ایمیگریشن وزیر کو ایمیگریشن حکام کے فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے جس میں البرٹ کے حالیہ وزن گھٹانے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

ایمیگریشن حکام کے ترجمان نے کہا کہ البرٹ بیوٹن ہاییز کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کہ ان کے وزن کی وجہ سے انھیں خراب صحت کا سامنا ہے جس میں شوگر، ذہنی دباؤ اور دل کے امراض شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تمام تارکینِ وطن کے لیے اپنی صحت کو معیار کے مطابق رکھنا ضروری ہے تاکہ صحت کی مد میں آنے والے ریاستی اخراجات کو کم کیا جا سکے اور نیوزی لینڈ کے صحت کے شعبے پر بھی دباؤ کم ہو۔

اسی بارے میں