حکومتی انتباہ کے باوجود مرسی کے حامیوں کا احتجاج جاری

Image caption رات کو اخوان المسلمین کے رہنماوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے

مصر کی حکومت کی تنبیہ کے باوجود قاہرہ میں معزول صدر مرسی کے حامیوں کا دھرنا جاری ہے اور مظاہرین نے اپنے کیمپ کے اردگرد مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں ہیں، جب کہ جھڑپوں میں کم از کم 65 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ مظاہرین نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔

رات کو اخوان المسلمین کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ سابق صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس سے قبل مصری وزیرِ داخلہ نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کو تنبیہ کی تھی کہ ان کے دھرنے کو ’جلد ہی‘ منتشر کر دیا جائے گا۔

وزیر محمد ابراہیم نے کہا تھا کہ مظاہرین جس مسجد میں جمع ہیں اس کے قریب رہنے والے لوگوں نے شکایتیں درج کروائی ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس مظاہرین کو مسجد سے نکالنے کا قانونی جواز موجود ہے۔

تصاویر: پرتشدد مظاہروں کے بعد دھرنا جاری

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا اختیار دیں: مصری فوج

رات بھر مظاہرین کا دھرنا جاری رہا اور اب بھی ہزاروں افراد رابعہ العدویہ مسجد میں جمع ہیں۔

اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الہداد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچوں نے رابعہ العدویہ مسجد کے قریب پْرامن احتجاج میں حصہ لیا۔‘

انھوں نے کہا کہ’صدر مرسی کے ساتھ جو بھی سلوک ہو اس سے بالاتر ہو کر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ ہماری تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو فوجی بغاوت سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان کی جابرانہ حکمرانی کا اندازہ ہو رہا ہے۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مصری حکام سے شہریوں کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی سے فون پر بات کی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس انتہائی اشتعال انگیز ماحول میں مصری حکام کا یہ اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے کہ وہ عوام کے پْرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حقوق کا احترام کرے۔‘

دریں اثنا محمد مرسی کے دو بڑے مخالف رہنماؤں نے جنہوں نے مرسی کے اقتدار سے ہٹانے کے اقدام کی حمایت کی تھی سنیچر کو ہونے والے ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

جامعہ الاظہر کے امام نے جو مصر میں سنی مسلمانوں کے بڑے مذہبی رہنما مانے جاتے ہیں ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البرادی نے کہا ہے کہ شدید طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔

سنیچر کو قاہرہ میں فوج اور مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔ ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ البتہ وزارتِ صحت نے مرنے والوں کی تعداد 65 بتائی ہے۔

مرسی کے جماعت اخوان المسلمین نے ان ہلاکتوں کا الزام فوج پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجیوں نے گولی مار کر مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔

حکومت نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی افواج نے گولیاں نہیں بلکہ صرف آنسو گیس استعمال کی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کونٹن سمرول کہتے ہیں کہ زخمیوں کے زخموں کی شدت اور نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ بات غلط نظر آتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آنسو گیس، شاٹ گن کے کارتوس اور گولیوں سمیت جھڑپوں میں ہر چیز استعمال کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمالی قاہرہ میں اخوان المسلمین کے حامیوں کے ایک ماہ سے جاری دھرنے کو توڑنے کی کوشش میں تصادم شروع ہوا۔

اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الحداد نے سکیورٹی فورسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنیچر کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ’وہ زخمی کرنے کے لیے نہیں بلکہ مارنے کے لیے فائر کرتے ہیں۔‘

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے 70 فیصد افراد پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں اور زیادہ تر متاثرین کو چھتوں سے نشانہ باندھ کر براہ راست سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں ہیں۔

اخوان المسلمین کے سینیئر رہنما سعدالحسینی نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے مسجد کا علاقہ خالی کرانے کی کوشش تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں پانچ گھنٹوں تک جوانوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن نہیں کر سکا۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے خون کی قربانی دی ہے اور پسپا نہیں ہونا چاہتے۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کے حامی فوج کے نئے کردار پر اور بالخصوص جنرل عبدالفتح السیسی پر برہم ہیں جو ان کے مطابق مصریوں کو قتل کر رہے ہیں۔

مصر میں فوج کی جانب سے نامزد وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے سنیچر کو سرکاری ٹی وی چینل الاہرام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک ماہ سے جاری مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو جلد از جلد قانونی طریقے سے ختم کیا جائے گا۔‘

مصر میں جاری تشدد پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سنیچر کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیترین ایشٹن نے حالیہ تشدد کو ناقابل برداشت قرار دیا تھا جبکہ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے مصری حکام پر تشدد کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

خیال رہے کہ مظاہروں کے آغاز کے ساتھ ہی مصری حکام نے معزول صدر محمد مرسی کو فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کرنے اور سنہ 2011 کی بغاوت کے دوران جیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔

مصر کی صورت حال کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے مصری فوج سے محمد مرسی کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں