مصر: وزیرِ خارجہ کی جانب سے ضبط کی تلقین

Image caption مسجد رابعہ العدویہ کے آس پاس ہزاروں مظاہرین جمع ہیں، جن میں سے بعض اپنے خاندان کے افراد کو بھی ساتھ لے کر آئے ہیں

مصر کے نئے وزیرِ خارجہ نبیل فہمی نے قاہرہ میں اتوار کی جھڑپوں کے بعد ضبط کی تلقین کی ہے جس میں کم از کم 70 افراد مارے گئے تھے۔

سنیچر کو معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئی تھیں جو قاہرہ کی ایک مسجد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

دریں اثنا عبوری صدر عدلی منصور نے وزیرِاعظم کو وہ اختیار تفویض کر دیا ہے جس کے تحت فوج کو عام شہریوں کو گرفتار کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

مرسی کے حامیوں کا دھرنا جاری

تصاویر: پرتشدد مظاہروں کے بعد دھرنا

مرسی حماس سے سازباز کے الزام میں گرفتار

دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا اختیار دیں: مصری فوج

بی بی سی کے قاہرہ میں نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ یہ خطرناک علامت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ رابعہ العدویہ مسجد کے اردگرد واقع احتجاجی کیمپ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جانے والا ہے۔

وزیرِ داخلہ محمد ابراہیم نے بار بار تنبیہ کی ہے کہ اس کیمپ کو ’جلد‘ ہی منتشر کر دیا جائے گا، لیکن مظاہرین اب بھی وہاں ڈٹے ہوئے ہیں۔

اتوار کو قاہرہ کے شمالی شہروں کفر الزیات اور پورٹ سعید میں مزید جھڑپیں ہوئی ہیں، جن میں دو افراد مارے گئے۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے مینا نے خبر دی ہے کہ جزیرہ نما سینا میں فوج نے دس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نبیل فہمی نے کہا کہ ان کی حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے ’تشدد اور اشتعال انگیزی ختم کرنا ہو گی۔‘

مصری حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ سنیچر کو فوج اور پولیس اہلکاروں نے حد سے تجاوز کیا ہے۔ نبیل فہمی نے اس اعتراض کے جواب میں کہا: ’اگر دونوں اطراف سے لوگ فائرنگ کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس دوران ہلاکتیں بھی ہوں گی۔‘

شروع میں حکومت نے سنیچر کے روز گولیاں استعمال کرنے کی تردید کی تھی، اور کہا تھا کہ صرف آنسو گیس استعمال کی گئی تھی۔

سنیچر کو ہونے والی ہلاکتوں کے بعد عبوری حکومت کو ملک اور ملک سے باہر سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

جامعہ الاظہر کے مفتی نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مصری حکام سے شہریوں کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی سے فون پر بات کی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ اب جب کہ وزیرِ اعظم حازم الببلاوی کا پاس فوج کو عام شہریوں کی گرفتاری کی اجازت دینے کا اختیار آ گیا ہے، اس سے مسجد کے آس پاس کے علاقے میں صورتِ حال کشیدہ ہو گئی ہے۔

محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے مسجد رابعہ العدویہ کو احتجاج کا مرکزی نقطہ بنایا ہوا ہے۔ بعض مظاہرین اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ مرسی کو بحال کر دیا جائے۔

مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

تاہم انسانی حقوق کی تحقیق کار پریانکا موتاپارتھی نے سنیچر کو ہلاک ہونے والے بعض افراد کی لاشیں دیکھی ہیں۔ انھیں تشویش ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو زبردستی ہٹانے کی کوشش کی تو کیا ہو گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم بہت زیادہ فکرمند ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پولیس نے متواتر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے، جس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔‘

فوج نے تین جولائی کو مصر کے پہلے جمہوری صدر کو برطرف کر دیا تھا۔ گذشتہ ہفتے فوج نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ سڑکوں پر آ کر اس برطرفی کو مینڈیٹ دیں۔

اس کے جواب میں دسیوں ہزار لوگ جمعے کی رات کو تحریر سکوئر میں جمع ہو گئے تھے۔

مرسی ایک عدالتی حکم کے مطابق 15 روزہ ریمانڈ پر کسی نامعلوم مقام پر حراست میں ہیں۔

ان پر 2011 میں اخوان المسلمین کے بعض رہنماؤں کی جیل سے رہائی کے دوران بعض ’قیدیوں، افسروں اور سپاہیوں کو جان بوجھ کر ہلاک کرنے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں