’مشرقِ وسطی امن مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے‘

Image caption اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے

امریکی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات کار پیر کو واشنگٹن میں تقریباً تین سال کے بعد دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

یہ مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے تاہم بات چیت کا نیا سلسلہ پیر کی شام کو امریکی وزارتِ خارجہ میں شروع ہو گا۔

ان مذکرات کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ان تھک سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جنھوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک چھ مرتبہ مشرقِ وسطی کا دورہ کیا۔

فلسطینیوں سے معاہدے پر ریفرینڈم ہوگا: اسرائیلی کابینہ

امن مذاکرات کی بحالی، اسرائیل فلسطین معاہدے پر متفق

مشرق وسطیٰ امن:امریکی منصوبے کی حمایت

فلسطین کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہم ہیں: نیتن یاہو

خیال رہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کا یہ اعلان اسرائیل کی جانب سے 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان فلسطینی قیدیوں کی رہائی مرحلہ وار اور متعدد مہنیوں میں ہو گی۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جین پساکی کا کہنا ہے کہ ابتدائی مذاکرات پیر کی شام کو شروع ہوں گے اور منگل تک جاری رہیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور فلسطین کے صدر محمود عباس سے اتوار کو بات کی۔

ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ مذاکرات آنے والے مہینوں میں اسرائیل اور فلسطین کےدرمیان کام کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

غربِ اردن میں اسرائیل کی آبادکاری، یروشلم کا درجہ اور فلسطین مہاجرین کا مستقبل ان مذاکرات کا اہم موضوع ہوں گے۔

واضح رہے کہ یروشلم میں اسرائیل کی آباد کاری کے باعث فلسطین اور اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے۔

Image caption یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہیں تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے

یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہے تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی کابینہ نے اتوار کو 7 کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے 104 فلسطینی قیدیوں کی چار مرحلوں میں رہائی کی منظوری دی۔

اتوار کو ہونے والا کابینہ کا اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا کیونکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو قیدیوں کی رہائی کے لیے حمایت جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اجلاس سے پہلے نیتن یاہو کا قیدیوں کی ممکنہ رہائی کے حوالے سے کہنا تھا ’یہ لمحہ میرے لیے آسان نہیں، یہ کابینہ کے ممبران کے لیے آسان نہیں اور خاص طور پر ہلاک ہو جانے والوں کے لواحقین کے لیے آسان نہیں ہے اور میں ان کے جذبات سمجھتا ہوں۔ تاہم کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب ملکی بقا اور بہتری کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور یہ ایسا ہی وقت ہے‘۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی کابینہ نے ایک بل کی بھی منظوری دی جس کے تحت فلسطینیوں کے ساتھ کسی طرح کے بھی امن معاہدے کی منظوری کے لیے ریفرنڈم کروانا لازمی ہوگا۔

اسی بارے میں