’خالدیہ پر شامی فوج کا کنٹرول بحال‘

خالدیہ کے علاقے کا ایک منظر
Image caption باغیوں نے 2011 میں خالدیہ پر قبضہ کر لیا تھا

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شامی فوج نے ملک کے وسطی شہر حمص کے ایک اہم علاقے خالدیہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ثناء نیوز ایجنسی کے مطابق فوج نے ’خالدیہ اور اس کے گردونواح میں مکمل سکیورٹی اور استحکام بحال کر دیا ہے‘ اور حکومتی افواج نے پیر کی صبح شدید لڑائی کے بعد خالدیہ کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے ’دی سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے اس دعوے کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے خالدیہ کے بیشتر حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن جنوبی علاقوں میں چھڑپیں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

ادارے کے مطابق شامی طیاروں نے پیر کو خالدیہ کے جنوب میں حمص شہر کے قدیم حصے کے ایک ضلعے باب حد پر بمباری کی۔

خبر رساں ادارے اے پی کو ایک حکومت مخالف کارکن نے بتایا کہ خالدیہ کے لیے جاری لڑائی ’تقریباً ختم ہو چکی ہے‘۔

حمص شام کا تیسرا بڑا شہر ہے اور گذشتہ دو سال کے دوران حکومت مخالف تحریک کا ایک اہم گڑھ رہا ہے۔

حکومتی افواج نے حمص سے باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے ایک ماہ قبل حملہ کیا تھا۔

عرب ٹی وی المیادین کے مطابق حکومتی افواج نے اتوار کو 80 فیصد علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا جس کے بعد ٹی وی پر خالدیہ کی تصاویر نشر کی گئی تھیں جن میں تباہ شدہ عمارتیں، ملبے کا ڈھیر اور مسجد خالد بن ولید کا اندرونی حصہ دکھایا گیا تھا۔

باغیوں نے 2011 میں خالدیہ پر قبضہ کر لیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خالدیہ کا کنٹرول حاصل کر لینے سے حکومتی افواج کی جنہیں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی حمیت حاصل ہے، جوابی کارروائیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں