افغانستان میں’پرندوں کی نسل کشی‘

Image caption پکڑی جانے والی چڑیوں کی پالتو پرندوں اور گوشت کے لیے تجارت ہوتی ہے

افغانستان میں اطلاعات کے مطابق مکانی کرنے والی بے شمار پرندوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے جس سے سائبیرین سارس جیسی نسل بالکل معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

پرندوں کا شکار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دوسری نسل کے پرندوں کی تعداد میں بھی تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اور اس سے ماحولیات کے تئیں سنجیدہ لوگوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نور آغا اپنی غلیل تیار کر رہے ہیں۔ وہ کابل سے کوئی ڈیرھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر پروان صوبے میں برف پوش ہندوکش کی چوٹیوں کے درمیان سرسبز وادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ پرندوں کے لیے بڑے ٹرانزٹ ائر پورٹ کی طرح ہے‘۔

سید خیل ضلع میں گندم کے کھیت اور باغات نقل مکانی کرنے والی یا مہاجر پرندوں کے لیے مناسب ترین جگہ ہے۔

نور آغا کا کہنا ہے کہ ’جب درجہ حرارت میں اضافہ ہونا شروع ہوتا ہے تو بھارت اور پاکستان سے ہجرت کر کے ہزاروں کی تعداد میں سفید سارس، فلیمنگو، بتخ، باز اور گوریا یہاں آتی ہیں۔ روس کی جانب پرواز کرنے سے قبل وہ یہاں تھوڑے دنوں قیام کرتی ہیں۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم اپنا کام کرتے ہیں۔‘

ان کے ایک درجن بچے اس بات پر انہیں داد تحسین دیتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد ایک بچہ کسی درخت سے کپڑے کا ایک ٹکڑا لہراتا ہے اور آغا دوسرے بچوں کو چاروں جانب پھیل جانے کے لیے کہتے ہیں اور پھر جلد ہی گوریوں کا ایک جھنڈ وادی میں اتر آتا ہے۔

آغا اور ان کے پوتے غلیل بازی شروع کر دیتے ہیں اور درجنوں گوریا زمین پر آ گرتی ہیں اور تین شکاری کتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے وہ فوراً ہی زخمی پرندوں کو اکٹھا کر لیتے ہیں ان کو بھی جو بہت دور جا کر گرتی ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے بلال سروری کا کہنا ہے کہ نور آغا کی طرح بہت سے افغان گوشت کے حصول کے لیے پرندوں کا شکار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں چھوٹے پرندے کینریز اور فنچز کی تجارت بھی زوروں پر ہے۔ یہ انہیں پکڑتے ہیں اور غیر قانونی طور پر ایران، پاکستان اور خلیجی ممالک بھیجتے ہیں جہاں انہیں گھروں میں شوق سے پالا جاتا ہے۔

Image caption سائبیریا سارس معدوم ہورہے پرندوں میں شمار ہوتے ہیں اور افغانستان میں 1999 سے نظر نہیں آئے ہیں

افغانستان میں ماحولیات کے تحفظ کی ایجنسی کے سربراہ مصطفیٰ ظہیر نے حال ہی میں ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ تقریباً پانچ ہزار طیور ہر سال ملک سے باہر غیر قانونی طور پر بھیجی جاتی ہیں۔ یہ ایک محتاط اندازہ ہے۔ ان پرندوں میں باز اور سب سے وزنی پرندہ بھی شامل ہے۔ ہیوبارا بسٹارڈ نامی پرندے کی خلیجی ممالک میں کافی قیمت ملتی ہے اس لیے شکاریوں کو اس کی بطور خاص تلاش رہتی ہے۔

چونکہ افغان معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اس لیے بہت سے غریب افغانوں کے لیے پرندوں کی تجارت آمدنی کا خوش آئند ذریعہ ہے۔

سید خیل اور کوہستان جیسے دور دراز کے علاقوں کے بازاروں میں ہر قسم اور سائز کے زندہ اور مردہ پرندے وافر تعداد میں ملتے ہیں۔

مردہ گوریوں کے بھرے بورے کے ساتھ کوہستان کے ایک بازار میں ایک شکاری نے کہا ’اسی طرح ہمارا گزر بسر ہوتا ہے۔ یہاں کوئی کام نہیں ہے۔ ہم لوگ اور کیا کر سکتے ہیں۔‘

Image caption شکاریوں کا کہنا ہے کہ دوسری متعدد قسم کی چڑیوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے

ویٹ لینڈ انٹرنیشنل کے تائج منکدور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا یہاں سپینی گورویوں کی بات ہو رہی ہے جو نایاب ہونے کے خطرے سے دو چار نہیں ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ شکار میں دوسری نسلوں کے پرندوں بھی شامل ہیں لیکن درحقیقت ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں کئی دہائیوں سے جنگ جاری ہو وہاں پرندوں کی خیر خبر ترجیحات میں بہت نیچے ہیں۔

سائبیرین سارس جو کہ بھارت جاتے ہوئے یہاں مستقل آیا کرتے تھے انہیں یہاں 1999 سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ اور اسے عالمی طور پر اب خطرناک حد تک نایاب ہوتے پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

افغانستان میں پرندوں کا شکار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اب دوسری قسم کے پرندے بھی کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔

27 سالہ محمد وحید کا کہنا ہے: ’بڑے بزرگ سارس، فلیمنگو، جنگلی بطخ اور بٹیروں کی باتیں کیا کرتے تھے۔ یہ پرندے اس علاقے میں عام ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ نہیں ہیں۔‘

اس سے 70 سالہ آغا بھی متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’اب یہاں بہت سارے شکاری ہیں اس لیے پرندے بھاگ گئے ہیں‘۔

Image caption چھوٹی چڑیوں کو پکڑ کر انہیں پنجڑوں میں ڈال کر رکھا جاتا ہے اور ان کی تجارت ہوتی ہے

کوہستان ضلع میں پنج شیر ندی کے کنارے چند میل کے فاصلے پر حاجی دوست محمد نے اپنی آدھی زندگی جنگلی بطخوں کے شکار میں گزاری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ہر گھر میں شاٹ گن موجود ہے۔ 40 سالہ دوست محمد ہجرت کے موسم میں صبح سویرے اپنے شکار پر نکل پڑتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ہر صبح سورج نکلنے سے قبل ہم اپنے تالاب میں کپڑوں سے ٹھونس کر بنائی گئی نقلی بطخیں ڈال دیتے ہیں اور جب پرندوں کا کوئی جھنڈ آتا ہے تو مرغابیاں تالاب کی جانب متوجہ ہوتی ہیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں جب تک کہ مرغابیاں نقلی بطخوں کے ساتھ جوڑا نہ بنا لیں اورجوں ہی وہ تالاب پر اترنے والی ہوتی ہیں کہ ہم فائر کر دیتے ہیں۔

ان کو پکڑنے کے لیے بڑے بڑے جال بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

گاؤں کے ایک بزرگ شخص نے کہا ’ہم لوگ جال لے کر پہاڑوں کے شگافوں پر پھیل جاتے ہیں اور جب ان راستوں سے کوئی جھنڈ گزرتا ہے تو ہم اسے کھینچ لیتے ہیں اور سینکڑوں چڑیاں سیدھے جال میں جا گھستی ہیں۔

کئی جگہوں پر بڑے پیڑوں پر لکڑے کے بڑے بڑے بکسے رکھے جاتے ہیں۔ وہاں کا آرام پرندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے لیکن وہاں پر چھپے پھندے ان کا شکار کر لیتے ہیں۔

Image caption اس سب سے وزنی اڑنے والی چڑیے کی خلیجی ممالک میں کافی مانگ ہے

اس طرح سے کافی پرندے پکڑے جاتے ہیں۔ ایک ایک شکاری دن بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں پرندے پکڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں یہ کہنا تقریباً ناممکن ہے کہ ایک سال میں افغانستان میں کتنے پرندے مارے جاتے ہوں گے۔

لیکن بلال سروری کا کہنا ہے کہ انھوں نے پورے ملک میں پرندوں کا اسی طرح شکار دیکھا ہے اس لیے یہ تعداد ہر سال لاکھوں میں جاتی ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا علم ہے۔ پروان کے ایک اہلکار نے تو اسے ’پرندوں کی نسل کشی‘ سے تعبیر کیا۔

انھوں نے کہا: ’لیکن آپ کو سمجھنا ہوگا کہ یہاں زندگی اسی طرح کی ہے۔ پرندوں کا شکار صدیوں سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے سرکاری اہلکار خود ہی شکاری ہیں۔ ان کے خلاف کون بولے گا۔

حکومت نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے مہاجر پرندوں کے شکار پر پانچ سال قبل پابندی لگا دی تھی لیکن ابھی اسے پارلیمان میں پاس ہونا باقی ہے لیکن اس پر شاید ہی عمل درآمد ہو سکے۔

اسی بارے میں