’مشرق وسطیٰ امن معاہدہ نو ماہ میں متوقع ‘

Image caption اسرائیل کی جانب سے وزیر انصاف تسیبی لیفنی اور فلسطین کی جانب سے صائب عریقات ان مذاکرات کی سربراہی کر رہے ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار اگلے نو ماہ میں کسی حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان اگلی ملاقات آئندہ دو ہفتوں میں اسرائیل یا فلسطین میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں تمام معاملات پر بات کی جائے گی۔

یہ بات جان کیری نے واشنگٹن میں فریقین کے درمیان دو دن جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں سے ملاقات کی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے وزیر انصاف تسیبی لیفنی اور فلسطین کی جانب سے صائب عریقات ان مذاکرات کی سربراہی کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین مذاکرات کا دوبارہ آغاز

’فلسطین سے معاہدے پر ریفرینڈم ہو گا‘

’اسرائیل چند اہم فلسطینی قیدی رہا کرے گا‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’یہ راستہ بہت مشکل ہے‘ لیکن اصرار کیا کہ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتیں مثبت رہی ہیں‘۔

اس بریفنگ میں صائب عریقات کا کہنا تھا کہ’ وہ خوش ہیں کہ تمام معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی‘۔ جبکہ تسیبی لیفنی کا کہنا تھا کہ سالوں کے تعطل کے بعد وہ پرامید ہیں۔

جان کیری نے اس مرحلے تک پہنچنے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی ’باہمت لیڈرشپ‘ کو بھی سراہا۔

اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات کاروں نے پیر کو واشنگٹن میں تقریباً تین سال کے بعد دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ان مذاکرات کا آغاز اسرائیل کی جانب سے 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔

ان مذاکرات کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ان تھک سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک چھ مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا۔

اسرائیل میں کام کرنے والے سابق امریکی سفیر مارٹن انڈیک کو ان مذاکرات کے لیے امریکہ کی جانب سے خصوصی ایلچی نامزد کیاگیا ہے۔

مارٹن انڈیک نے سنہ دو ہزار میں سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ یروشلم میں اسرائیل کی آباد کاری کے باعث فلسطین اور اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے۔ یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہے تاہم اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی کابینہ نے اتوار کو سات کے مقابلے میں تیرہ ووٹوں سے ایک سو چار فلسطینی قیدیوں کی چار مرحلوں میں رہائی کی منظوری دی۔

اسی بارے میں