جاپان کی صنعتی پیداوار میں کمی

Image caption جاپان میں صنعتی پیداوار میں اندازوں کے برعکس کمی ہوئی ہے

جاپان نے اپنی معیشت سے متعلق جو نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان میں اندازوں کے برعکس کمی ہوئی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت کو ملک کی معیشت کو بحال کرنے میں چیلنجز درپیش ہیں۔

مئی کے مقابلے میں جون میں صنعتی پیداوار میں تین اعشاریہ تین فیصد کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں اس میں چار اعشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں گھریلو اخراجات میں اعشاریہ چار فیصد کمی آئی ہے جبکہ تجزیہ کار اس میں ایک فیصد اضافے کی توقع کر رہے تھے۔

جاپان اپنی سست معیشت کو بحال کرنے کے لیے گھریلو کھپت میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار کمزور ہیں اور حکومت کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں لیکن یہ کسی فوری خدشے کا باعث نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جے پی مورگن سکیورٹیز سے منسلک ماہر اقتصادیات مساکی کانو کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت چھوٹا سا نکتہ ہے جبکہ مجموعی جائزے کے مطابق جاپان کی معیشت بہتری کی جانب جا رہی ہے۔‘

وزیر اعظم شینزو ابے کی حکومت نے گھریلو طلب کو بڑھانے کے لیے کچھ جارحانہ اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سال کے آغاز میں ملک کے مرکزی بینک نے افراط زر میں دو فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا تھا تاکہ عام اشیاء کی قیمتوں اور اخراجات میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ ان اقدامات کا اثر ہوا ہے کیوں کہ گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان اشیاء کی قیمتوں میں ایک سال میں پہلی مرتبہ جون میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

جاپان کی صنعتی پیداوار میں کمی بھی پیش گوئی سے زیادہ تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی عارضی ہے اور آنے والے مہینوں میں یہ پیداوار بڑھے گی۔

ڈائی ایچی لائف ریسرچ اٹسٹیٹیوٹ کے ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ’صنعتی پیداوار سے متعلق جون کے اعداد و شمار کمزور تھے لیکن جولائی کے لیے صنعت کاروں کی پیشگوئی مضبوط ہے۔‘

جاپان کی معیشت، تجارت اور صنعت کی وزارت کے جانب سے کیےگئے ایک سروے کے مطابق صنعتکار جولائی کی پیداوار میں چھ اعشاریہ پانچ فیصد اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں