افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ

Image caption افغانستان کی جنگ سے خواتین اور بچے زيادہ متاثر ہورہے ہیں

اقوام متحدہ کی ایک نئي رپورٹ کے مطابق افغانستان کی جنگ میں اس برس شہریوں کی ہلاکتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے زيادہ متاثرہوئے۔

افغانستان میں یو این اسسٹنٹ مشن ( یو این اے ایم اے) کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس برس اب تک 1319 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ رپورٹ یکم جنوری سے 30 جون کے درمیان تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے جس کے مطابق اس لڑائی میں ڈھائی ہزار سے زيادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ تشدد میں یہ اضافہ طالبان کے بڑھتے حملوں اور سرکاری فوج سے ان کی لڑائی کے سبب ہوا ہے۔ 2012 میں اس میں کمی آئی تھی لیکن تازہ رپورٹ میں 2012 کے رجحان کی نفی ہوتی ہے۔

تشدد میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے کو مل رہا ہے جب امریکہ کی قیادت والی نیٹو افواج کے انخلا کے بعد سکیورٹی کی صورت حال افغان فوج سنبھالنے والی ہے اور سوال یہ ہے کہ آخر افغان فوج اس صورت حال سے کیسے نمٹے گی۔

رپورٹ کے مطابق عام شہریوں کے خلاف تشدد میں اس اضافے کا زیادہ اثر خواتین پر پڑا ہے اور طالبان اور حکومتی فوج کے مابین گراؤنڈ پر لڑائي کے سبب خواتین کی ہلاکتوں میں پہلے سے 61 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی ہلاکتوں میں بھی پہلے سے 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2013 کے پہلے نصف میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے سے 2012 میں اس میں ہونے والی کمی کو روک دیا ہے اور یہ 2011 کی طرف واپسی کا اشارہ ہے جب شہریوں کی ہلاکتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گيا تھا۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ 74 فیصد اموات باغیوں کے حملوں کے سبب ہوتی ہیں جبکہ نو فیصد ہلاکتیں حکومتی فوج کے حملے میں ہوتی ہیں۔

زمین پر فریقین میں لڑائی ہونے کے سبب بھی 12 فیصد لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ باقی چار یا پانچ فیصد ہلاکتوں کو کسی سے نہیں جوڑا گيا جو جاری جنگ میں بچے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے ہوئیں۔

نیٹیو افواج سے انخلا سے قبل اب ملک کے تقریبا بیشتر حصوں میں طالبان کے خلاف افغان حکومت کے فورسز بر سر پیکار ہیں۔

لیکن رپورٹ کے مطابق: ’ملک بھر کے تقریبا تمام ملٹری آپریشن کی قیادت افغان فورسز کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود، شہریوں کی ہلاکت کی باقاعدہ تفتیش، ان کی ابتدائی طبّی مدد یا پھر اس سلسلے میں مزيد اقدامات کرنے کے لیے ابھی تک کوئی مستقل ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔‘

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بارے میں ابھی تک افغان حکومت یا پھر طالبان کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آيا ہے جو عام طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ نیٹو کے فضائي حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت میں 30 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ماضی میں ان حملوں میں بڑي تعداد میں عام شہری ہلاک ہوتے تھے۔

افغانستان میں عالمی افواج نے اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے اور 90 فیصد ہلاکتوں کے لیے طالبان کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

اسی بارے میں