حوالات میں ڈال کر بھول جانے پر 4.1 ملین ڈالر ہرجانہ

Image caption ڈینئل چونگ نے کہا کہ زندہ رہنے کے لیے وہ اپنا پیشاپ پیتے تھے

امریکہ کے شہر سین ڈیاگو میں ایک طالب کو حوالات میں ڈال کر چار دن تک بھول جانے کے اقدام پر امریکی حکومت کی طرف چار اعشاریہ ایک ملین امریکی ڈالر ہرجانہ ادا کیا گیا ہے۔

ڈینئل چونگ کے وکیل نے کہا کہ حکام ان کو حوالات کے سیل میں ڈال کر بھول گئے جس کے نتیجے میں انھیں یہ ہرجانہ ادا کرنا پڑا۔

ڈینئل نے کہا کہ حکام غلطی سے انھیں بھول گئے’ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک حادثہ تھا۔۔۔حقیقت میں یہ ایک بہت ہی بڑا دہشت ناک حادثہ تھا‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی(ڈی ای اے) کی ترجمان السن پرائس نے زیادہ تفصیل بتائے بغیر 4.1 ملین ڈالر ہرجانے پر اتفاق کی تصدیق کی ہے۔

ڈینئل چونگ نے کہا کہ زندہ رہنے کے لیے وہ اپنا پیشاپ پیتے تھے اور انھوں نے اپنے بازو پر اپنے ماں کے لیے پیغام کندہ کیا۔

انھیں 2012 میں منشیات کے حوالے سے ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا اور انھیں بتایا گیا تھا کہ ان پر فردِجرم نہیں عائد کیا جائے گا لیکن انھیں سین ڈیاگو کے ڈرگ افورسمنٹ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں جیل کےکمرے بند کرنے کے بعد چار دن تک وہاں کوئی نہیں آیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے انسپکٹر اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخر کیا ہوا۔

پچیس سالہ ڈینئل چونگ نے کہا کہ باہر کے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے انھوں نے اپنے حوالات کے کمرے کے دورازے کے نیچھے اپنے بوٹ کا تسمہ گھسا کر چلانا شروع کیا جس کے بعد پانچ چھ لوگ وہاں پر آئے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ اپنے فضلے میں لت پت تھے۔

جیل سے نکلنے کے بعد ڈینئل چونگ کو گردوں کی خرابی، پانی کی کمی اور پیٹ میں مروڑ جیسے بیماریوں سے صحت یابی کے لیے پانچ دن ہسپتال میں گزارنے پڑے۔

ڈی ای اے کے سربراہ نے اس واقعے پر مئی میں سرِعام معافی بھی مانگی اور کہا کہ انھیں اس واقعے پر ’بڑا دکھ ہوا‘۔

ڈینئل چونگ کے وکیل نےک کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں ڈی ای اے نے حوالات میں نئی پالیسیاں متعارف کرائی ہے جس میں حوالات کے سیلز کو روزانہ چیک کرنا اور وہاں کیمرے نصب کرنا شامل ہیں۔