یوروگوائے میں چرس کی فروخت کا بل منظور

Image caption یوروگوائے کے صدر خوسے مُوخیکا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے منشیات فروش کمزور ہوں گے

لاطینی امریکہ کے ملک یوروگوائے کی کانگریس کے ایوان زیریں نے چرس کی فروخت اور استعمال کی قانونی اجازت دینے کے حق میں بل منظور کیا ہے۔

اگر یہ بل ایوان بالا یعنی سینٹ سے بھی منظور ہوجاتا ہے تو یوروگوائے دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جہاں بھنگ اگانے اور چرس بیچنے اور استعمال کرنے کی قانونی اجازت ہوگی۔

نئے قانون کے تحت صرف حکومت کو مذکورہ منشیات فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔

یوروگوائے کے صدر خوسے مُوخیکا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے منشیات فروش کمزور ہوں گے اور صارفین قدرے زیادہ خطرناک منشیات سے دور رہیں گے۔

تاہم اس قانون کے مخالفین کا الزام ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔

اس اقدام کے بعد حکومت چرس اور اس سے بننے والی اشیاء کی درآمد، برآمد، کاشتکاری، فروخت اور تقسیم کا کنٹرول سنبھال لے گی۔

صارفین کو یہ اشیا خریدنے کے لیے ایک حکومتی ڈیٹا بیس میں اندراج کروانا ہوگا اور ان کی عمر کم سے کم اٹھارہ برس ہونی ضروری ہے۔

صارفین مخصوص دکانوں سے ایک ماہ میںچالیس گرام تک خرید سکیں گے یا پھر اپنے گھروں میں چھ پودے تک اُگا سکیں گے۔

غیر ملکی افراد اس قانون کی مدد نہیں لے سکیں گے۔

موضوع پر تیرہ گھنٹوں کی مسلسل بحث کے بعد ایوان کے چھیانوے اراکین میں سے پچاس نے اس بل کی حمایت میں ووٹ ڈالے۔

بل کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ ملک میں منشیات کے خلاف جنگ ناکام ہوچکی ہے اور اب یوروگوائے کوئی متبادل راستہ چاہیے۔

اس بل کے حامی بائیں جانب رجحان والی سیاسی جماعت بروڈ فرنٹ تھی۔ ایوانِ زیریں میں اس جمارت کی صرف ایک رکن کی اکثریت ہے۔

سینیٹ میں ان کی اکثریت قدرے زیادہ ہے اسی لیے امید کی جا رہی ہے کہ یہ بل ایوانِ بالا سے آرام سے منظور ہوجائے گا۔

یہ بل گذشتہ سال وزیرِ دفاع ایلیتیرو فرنینڈز نے متعارف کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منشیات کے مقابلے میں اُن کی روک تھام زیادہ مسائل پیدا کرتی ہے۔

ادھر مخالفین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں منشیات کا استعمال انھیں قانونی بنانے سے کم نہیں ہوا۔

لاطینی امریکہ میں حال ہی میں منشیات کو قانونی بنانے کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔

برازیل، کولمبیا اور مکسیکو میں بھی چرس کو قانونی حیثیت دینے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

بی بی سی کے لاطینی امریکہ میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے لاطینی امریکہ میں منشیات کی خرید و فروخت کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اسی لیے خطے میں اس بل کی پیش رفت پر غور کیا جا رہا ہے۔

نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ البتہ یوروگوائے میں اس حوالے سے زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں تاہم دیگر ممالک کے لیے یہ ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں رومن کیتھولک عیسائی فرقے کے سربراہ پوپ فرانس نے پڑوسی ملک برازیل کے اپنے حالیہ دورے میں ملک میں زیرِ غور ایسے ہی اقدامات کی تنقید کی تھی۔

اسی بارے میں