انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام

Image caption ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن نتائج پانچ روز بعد ہی آئیں گے

زمبابوے میں ملکی انتخابات پر نظر رکھنے والی ایک مقامی تنظیم کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگيوں کے سبب تقریبا دس لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔

’ زمبابوے الیکشن سپورٹ نیٹورک'‘نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ جن افراد کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گيا اس میں سے بیشتر کا تعلق شہری علاقوں سے ہے جہاں اپوزیشن امید وار مورگن سوائنگیرائی کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

تنظیم کے مطابق اس کے برعکس دیہی علاقوں میں کم ووٹرز کو مسترد کیا گيا جہاں صدر رابرٹ موگابے کے حمایتوں کی تعداد زيادہ ہے۔

ادھر بدھ کے روز زمبابوے میں ہوئے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے جہاں لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے تھے۔

ان انتخابات میں ملک کے صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف اور وزیراعظم مورگن سوئنگیرائی کی ایم ڈی سی پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

افریقی مبصرین کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے انتخابات پر امن تھے لیکن ایم سی ڈی کا الزام ہے کہ الیکٹرول رول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ مکمل نتائج آنے میں پانچ روز تک کا وقت لگے گا۔

اس دوران صدر موگابے کے حامیوں نے انتخابات میں اپنی کامیابی کا دعوی کیا ہے۔ پارٹی کے ایک سینیئر رکن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ انہوں نے مخالف جماعت کو شکست دیدی ہے۔

نواسی برس کے رابرٹ مگابے گزشتہ تینتیس برس سے اقتدار میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت کو شکست ہوئی تو وہ اقتدار چھوڑ دیں گے۔

پولیس نے تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے وقت سے پہلے انتخابی نتائج سے متعلق کوئی خبر لیک کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگي۔

Image caption بدھ کے روز ہونے والے انتخابات میں لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے

رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف اور اور ایم سی ڈی دو ہزار نو سے مخلوط حکومت میں شامل ہیں لیکن دونوں کا یہ اتحاد ابتداء سے ہی رسا کشی کا شکار رہا ہے۔

دو ہزار آٹھ کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں تشدد کی لہر چل پڑی تھی جس کے بعد ایک معاہدے کے تحت دونوں جماعتوں نے مخلوط حکومت تشکیل دی تھی۔

صدارتی امیدوار کو جیتنے کے لیے کم سے کم پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے اور اگر کسی بھی امید وار کو اتنے ووٹ نا ملے تو پھرگيارہ ستمبر کو دونوں امیدواروں کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا اور جو زیادہ ووٹ حاصل کریگا وہ کامیاب امیدوار مانا جائیگا۔

حکومت نے بدھ کے روز ہوئے انتخابات میں مغربی مبصرین کو آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن افریقی یونین، جنوبی افریقہ کی ڈیولپمنٹ کمیونٹی اور مقامی تنظیموں کو اس کی اجازت دی تھی۔

افریقی یونین نے بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ان انتخابات کو پر امن اور ضابطے کے مطابق بتایا ہے۔ انتخابی امور پر نظر رکھنے والی ایک مقامی نے بھی ان انتخابات کو صحیح قرار دیا ہے۔

افریقی یونین کی جانب سے مبصرین کی سربراہی نائیجیریا کے سابق صدر اولیس گن اوباسانجو کر رہے تھے۔

انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارہ روائٹرز کو بتایا کہ انتخابات کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آيا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اس میں عوام کی مرضی شامل نہیں تھی۔

دارالحکومت ہرارے میں بی بی سی کی نامہ نگار نومسا مسیکو کا کہنا ہے کہ زمباوے کے انتخابی معیار کے اعتبار سے یہ انتخابات غیر معمولی رہے۔

اس کے برعکس دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہوئے تشدد میں اپوزیشن جماعت کے تقریبا دو سو کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ملک کے وزیرِاعظم مورگن سوانگیرائی کی جماعت ڈیموکریٹک چینج(ایم ڈی سی) پارٹی نے حکمران جماعت ذانو- پی ایف پر انتخابی فہرستوں میں گڑبڑ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں