ایورسٹ: کوہ پیمائی کے قوانین میں سختی

ایورسٹ کے بلند ترین مقام پر چند کوہ پیما
Image caption ماؤنٹ ایورسٹ پر ہر سال کوہ پیمائی کے تیس مشن جاتے ہیں۔

نیپال کے حکام کے مطابق اگلے سال سے ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کے لیے قوانین سخت کر دیے جائیں گے۔

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس نئے منصوبے کے تحت ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر پہلی مرتبہ ایک حکومتی ٹیم تعینات کی جائے گی۔

حکومت کی یہ ٹیم کوہ پیمائی کے لیے آنے والی ٹیموں کی مدد کرے گی، ریسکیو آپریشن اور ماحول کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرے گی۔

اس اقدام کا مقصد دنیا کی بلند ترین چوٹی پر پیش آنے والے ان واقعات کو روکنا ہے جو حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔

گزشتہ سال ماؤنٹ ایورسٹ پر پیش آنے والے ان واقعات میں مقامی اور باہر سے آنے والے کوہ پیماؤں کے درمیان ہونے والی لڑائی کا واقعہ بھی شامل ہے۔

نیپال میں سیاحت کی انڈسٹری میں کوہ پیمائی کے ڈویژن کے سربراہ پورنا چندرا بھٹارئی کا کہنا ہے کہ ’ایورسٹ کے بیس کیمپ پر حکومتی اہلکاروں کی مستقل موجودگی سے کوہ پیمائی کی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے گا۔ انٹیگریٹڈ سروس سینٹر کوہ پیماؤں کو رابطے اور تحفظ سے متعلق سہولیات فراہم کرے گا۔‘

پورنا چندرا بھٹارئی کا کہنا تھا کہ اگلے سال موسم بہار میں شروع ہونے والے کوہ پیمائی کے سیزن سے وہاں موجود ٹیم حکومت کی نمائندگی کرے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کھٹمنڈو میں بیٹھ کر کوہ پیمائی کی سرگرمیوں کا انتظام سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔

موجودہ قوانین کے مطابق کوہ پیمائی کی مہم پر جانے والی ہر ٹیم کے ساتھ ایک حکومتی رابطہ افسر کا ہونا ضروری ہے۔

لیکن اس بات پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے کہ یہ رابطہ افسر اکثر اوقات کھٹمنڈو سے ہی نہیں جاتے اور پہاڑ پر ٹیموں کا انتظام سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

’اب انٹیگریٹڈ سروس سینٹر کے اہلکار رابطہ افسر کا کام کریں گے جس میں کوہ پیمائی کا اجازت نامہ چیک کرنا اور اس بات کی تصدیق کرنا شامل ہوگا کہ کوہ پیما ایورسٹ کے بلند ترین مقام پر پہنچ گئے ہیں۔‘

پورنا چندرا بھٹارئی کا کہنا تھا ’اب تک یہ ہوتا آیا ہے کہ ایورسٹ کے بلند ترین مقام پر پہنچنے والوں کے بارے میں معلومات کھٹمنڈو میں ہم تک بعد میں پہنچتی تھیں لیکن دنیا کو میڈیا کے ذریعے پہلے پتہ لگ جاتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔‘

حکام اور کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نئے قوانین سے بے تکے ریکارڈ بنانے کے رجحان میں بھی کمی آئے گی۔

قوانین کے تحت اب کوہ پیماؤں کو اس بات کا اعلان پہلے کرنا ہوگا کہ وہ ریکارڈ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نیپال میں کوہ پیمائی کی ایسوسی ایشن کے سابق صدر آنگ شیرنگ شیرپا کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ کوہ پیماؤں نے ریکارڈ بنانے سے پہلے نہیں بتایا اور صرف بلندی پر پہنچنے کے بعد ہی ریکارڈ بنانے کا دعویٰ کیا۔‘

’آج کل لوگ بے تکے ریکارڈ بنا رہے ہیں جیسا کہ اپنے سر پر کھڑے ہونا یا بلند ترین مقام پر پہنچ کر کپڑے اتار دینا۔‘

آنگ شیرنگ شیرپا نئے قوانین تجویز کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کا طرز عمل ایورسٹ کی عظمت کے خلاف ہے۔‘

ایورسٹ پر مہم کے آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ایورسٹ کے بلند ترین مقام پر مانیٹرنگ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

نیپال میں کوہ پیمائی کی ایسوسی ایشن کے صدر زمبا زنگبو شیرپا کا کہنا ہے کہ ’اگر اس کے باوجود بھی کوہ پیما قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو انتظامیہ انہیں روک نہیں سکتی کیوں کہ بیس کیمپ پر موجود اہلکاروں کے لیے ہر مرتبہ اونچائی پر پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔‘

گزشتہ برس اپریل میں مغربی کوہ پیماؤں اور ان کے نیپالی گائیڈز میں ہونے والی لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے نئی پالیسی مرتب کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانونی اختیار حاصل ہوگا۔

پورنا چندرا بھٹارئی نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے قوانین کے تحت فی الحال کوہ پیمائی کی مہم کی ریالٹی فیس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ پر ہر سال کوہ پیمائی کے تیس مشن جاتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی فیس سیاحت سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا اہم حصہ ہے۔

تجربہ کار کوہ پیماؤں اور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کا منصوبہ اچھا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قوانین لاگو ہوں گے یا نہیں۔

ایک مہم آپریٹر کا کہنا تھا کہ ’ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے کوہ پیماؤں کا انتظام سنبھالنے کا منصوبہ بہت اچھا ہے لیکن پہلے ان ا ہلکاروں کو منظم کرنا ہوگا جنہیں اس کام کی ذمہداری دی جائے گی۔‘

اسی بارے میں