پابندیوں کی زبان میں بات نہیں کریں: روحانی

  • 4 اگست 2013

ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی نے تہران میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں ملک کے ساتویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس تقریب میں گیارہ ممالک کے صدور نے شرکت کی جن میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی شامل تھے۔

شمالی کوریا کہ خصوصی نمائندے کم یونگ نیم نے بھی اس تقریب میں شرکت کی جبکہ سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اس تقریب میں شرکت اس لیے نہیں کر سکے کیونکہ ان کے طیارے کو سعودی حکومت نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

حسن روحانی کون ہیں؟

’یورینیئم کی افزودگی بند نہیں ہو گی‘

کیا ایران میں تبدیلی کا وقت آ گیا ہے؟

صدر روحانی نے پارلیمان سے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ وہ ایک ایسی حکومت بنائیں گے جو ’دانشمند اور امید دلانے والی‘ ہو گی اور تمام ایرانیوں کی نمائندگی کرنے والی ہو گی۔

انہوں نے عالمی پابندیوں پر تنقید کی اور کہا کہ ’اگر آپ ایک تسلی بخش رد عمل چاہتے ہیں تو آپ کو پابندیوں کی زبان میں بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ آپ کو احترام کے ساتھ مخاطب ہونا چاہیے‘۔

صدر روحانی نے اقوام متحدہ میں سابق ایرانی سفیر جواد ظریف کو اپنا وزیر خارجہ نامزد کیا ہے جنہیں ایک معتدل سمجھا جاتا ہے۔

حسن روحانی نے کہا کہ لوگوں نے اعتدال پسندی اور امید کے لیے ہاں کو ووٹ دیا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ خواتین کے حقوق اور آزادی کو فروغ دیں گے اور حکومت کی جانب سے عوام کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کو کم کریں گے۔

انہوں نے ملک کی معیشت کا رخ بدلنے کی بھی بات کی جو چالیس فیصد افراطِ زر کے ساتھ شدید برے حالات میں ہے۔

گزشتہ روز تہران ہی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی توثیق کے بعد حسن روحانی نے باقاعدہ طور پر صدارت کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔

حسن روحانی نے جون میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ وہ اصلاحات کے ذریعے ایران کی عالمی سطح پر تنہائی کو ختم کر دیں گے۔

انیس سو اڑتالیس میں پیدا ہونے والے حسن روحانی ایران کے سابقہ چیف جوہری مذاکرات کار رہے ہیں۔

انہیں اصلاح پسندوں کی حمایت بھی حاصل ہے جو ان سے یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عالمی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

لندن میں ایران کے امور پر بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وہ صدر کا عہدہ تو سنبھال رہے ہیں لیکن ایران میں ہونے والے فیصلوں میں ان کا کردار سب سے اہم نہیں ہوگا۔

نامہ نگار نے یہ بھی کہا کہ انہیں لبرل کہنا غلط ہو گا اور یہ کہ ایران میں صدر کی بجائے ملک کےروحانی رہبر اعلیٰ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے قبل یوم قدس کے موقع پر حسن روحانی نے اسرائیل کی فلسطین پر قبضے کے بارے میں کہا کہ ’یہ عالم اسلام کے جسم پر ایک پرانا زخم ہے۔‘

فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منائے جانے والے اس دن پر ان کا یہ بیان ایران کے سابقہ لیڈروں کے بیانات کی ہی ایک گونج تھی۔

ایران نے 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

جمعے کو اپنی صدارت کے آخری دن ایک انٹرویو میں احمدی نژاد نے اسرائیل کو تنبیہ کی کہ خطے میں ایک ’طوفان اٹھ رہا ہے‘ جو صیہونیت کو جڑ سے اکھاڑ دے گا۔

کئی ایرانیوں کا ماننا ہے کہ دو مرتبہ متنازعہ انتخاب کے ذریعے اقتدار میں آنے والے محمود احمدی نژاد نے ملک کو اقتصادی بدحالی اور دنیا کے ساتھ جنگ کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

اسی بارے میں