پروفیسر کو ٹوئٹر پر بم حملے کی دھمکی

میری بیئرڈ
Image caption میری بیئرڈ کو ماضی میں بھی ٹوئٹر پر دھمکیاں موضؤل ہوتی رہی ہیں

برطانیہ میں کلاسیکی ادب کی پروفیسر اور ٹی وی پریزینٹر میری بیئرڈ کو ٹوئٹر پر بم حملے کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔

یہ واقعہ ٹوئٹر کے برطانیہ میں جنرل مینیجر کی جانب سے ٹوئٹر پر غیر مہذبانہ رویے کا شکار ہونے والی خواتین سے معذرت کرنے کے بعد پیش آیا ہے۔

ٹوئٹر پر غیر مہذب رویے پر نئے قوانین

فحش ویڈیو کے اجراء پر ٹوئٹر کی معذرت

پروفیسر بیئرڈ، جنہیں اس سے پہلے بھی ٹوئٹر پر دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس دھمکی آمیز پیغام کی پولیس کو رپورٹ کر دی ہے۔

اس ٹوئٹ میں اسی قسم کی زبان استعمال کی گئی ہے جو اس سے قبل موصول ہونے والے دھمکی آمیز پیغامات میں کی گئی تھی جن میں چند خواتین کو ریپ کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

ٹوئٹر پر کئی صارفین کا کہنا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے لیے ٹوئٹر کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

پروفیسر بیئرڈ نے سنیچر کو ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ انہوں نے اس دھمکی کے بارے میں پولیس کو رپورٹ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی ہے کہ پولیس کے پاس اس حوالے سے ایک اور کیس کا ریکارڈ ہو۔

پروفیسر بیئرڈ نے بی بی سی کے ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حرکت خوفناک ہے اور اسے رکنا ہوگا۔ سچ بات یہ ہے کہ مجھے حقیقت میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا لیکن مجھے ایسا لگا کہ مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘

جمعے کو میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ اس کا انٹرنیٹ پر جرائم کے خلاف کام کرنے والا شعبہ آٹھ لوگوں کی جانب سے موصول ہونے والی ہراساں کیے جانے اور دھمکی آمیز پیغامات کی شکایات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

رکن پارلیمان سٹیلا کریسی اور خواتین کے حقوق کی کارکن کیرولینا کریاڈو پیریز کو موصول ہونے والی ریپ کی دھمکیوں کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Image caption دی انڈیپینڈینٹ کی گریس ڈینٹ کی صحافی گریس ڈینٹ کو ٹوئٹر پر موصول ہونے والی دھمکی

گارڈین اخبار کی ہیڈلی فریمین، دی انڈیپینڈینٹ کی گریس ڈینٹ اور ٹائم میگزین کی کیتھرین میئر کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ٹوئٹر پر بم حملوں کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

ٹویٹر پر غیر مہزبانہ رویے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے ٹوئٹر کے بائیکاٹ کا آغاز گزشتہ رات ایک صحافی کیٹلن مورن کے مشورے پر شروع کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں ٹوئٹر کے جنرل مینیجر ٹونی وانگ کا کہنا تھا کہ یہ دھمکی آمیز پیغامات ناقابل قبول ہیں اور انہوں نے ٹوئٹر پر اس قسم کے رویوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں پیش آنے والے ان واقعات سے انٹرنیٹ پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور ایک آن لائن پٹیشن میں ٹوئٹر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’غیر مہذبانہ رویے کی شکایت کا ایک بٹن لگایا جائے‘۔ اس پٹیشن پر اب تک ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔

ٹوئٹر نے اپنے قواعد اپ ڈیٹ کیے ہیں اور تصدیق کی ہے کہ وہ تمام پلیٹ فارمز اور دیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر ٹویٹ کے اندر ایک ’غیر مہذبانہ رویے کے خلاف شکایت‘ کا بٹن متعارف کروائے گا۔ یہ بٹن ایپل پر استعمال ہونے والی ٹوئٹر ایپ پر پہلے سے دستیاب ہے۔

برطانیہ میں ٹوئٹر کے جنرل مینیجر ٹونی وانگ نے اپنے ٹوئٹس میں کہا کہ ’میں ذاتی طور پر ان خواتین سے معافی مانگتا ہوں جنہیں ٹوئٹر پر غیر مہذبانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا۔‘

’یہ ناجائز رویہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ حقیقی دنیا میں قابل قبول نہیں اور یہ ٹوئٹر پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ‘

’ہم اپنے صارفین کو غیر مہذبانہ رویوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتے ہیں اور کریں گے۔‘

اس سے قبل ٹوئٹر کی سینئر ڈائریکٹر ڈیل ہاروی اور برطانیہ میں جنرل مینیجر ٹونی وانگ نے ٹوئٹر کے بلاگ پر شائع کی گئی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ کمپنی نے صارفین کی جانب سے رد عمل کے بعد اپنے قوانین کی تجدید کی ہے۔

کمپنی نے غیر مہذبانہ رویے اور سپیم سے متعلق ہدایات کو واضح کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ صارفین ’ غیر مہذبانہ رویے یا دوسروں کو ہراساں کرنے کے معاملات میں بالکل نہ الجھیں۔‘

دونوں سربراہان نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نوعیت کی شکایات سے نمٹنے کے لیے اضافی سٹاف تعینات کیا جا رہا ہے اور وہ برطانیہ میں ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارے ’یو کے سیفر انٹرنیٹ سینٹر‘ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں