مصر کا تنازع: دو امریکی سینیٹر قاہرہ جائیں گے

Image caption صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

امریکی سینیٹر جان میک کین اور لنڈسی گراہم مصر کے بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش کے سلسلے میں قاہرہ پہنچنے والے ہیں۔

امریکی اور یورپی سفارت کار فوجی کی حمایت سے بننے والی حکومت اور معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

دریں اثنا قاہرہ میں مرسی کے حامیوں کا بڑے پیمانے پر دھرنا جاری ہے۔

قاہرہ میں ایک ہیلی کاپٹر نے فضا سے پمفلٹ گرائے ہیں جن میں مظاہرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دھرنا ختم کر دیں۔

رابعہ العدویہ چوک کے آس پاس گرائے گئے ان پمفلٹوں میں مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ اگر انھوں نے احتجاج کے دوران کوئی جرم نہیں کیا تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

مصر میں ایک عدالت نے اخوان الملسمین کے چند رہنماؤں کے مقدمے کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان رہنماؤں پر اس سال جون میں محمد مرسی کے خلاف کیے جانے والے مظاہروں کے دوران فساد اکسانے اور آٹھ مظاہرین کی ہلاکت کی جزوی ذمے داری کے الزامات ہیں۔

اس وقت اخوان المسلمین کے مفرور روحانی قائد محمد بعدی اور ان کے دو نائب ساتھیوں خیراط الشاتر اور رشید بےیومی، کے ساتھ ساتھ تین اور رہنماؤں کا مقدمہ 25 اگست کو چلایا جائے گا۔

ادھر امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیم برنز نے مصر میں اپنے دورے میں ایک بار پھر توسیع کی ہے جس کا مقصد فریقین سے دوبارہ مذاکرات کرنا ہے۔

مصر: مغربی سفارتکاروں کی امن کی کوششیں

قاہرہ: احتجاجی دھرنوں کی ناکہ بندی کا حکم

معزول صدر مرسی ٹھیک ہیں: کیتھرین ایشٹن

گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی سے کسی نامعلوم مقام پر ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد یورپی یونین کی نمائندہ نے کہا تھا کہ معزول صدر خیریت سے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ انہیں کہاں رکھاگیا ہے۔

بیرنس کیتھرین ایشٹن نے کہا تھا کہ ان کی محمد مرسی سے دو گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے لیکن انہوں نےاس ملاقات کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے مندوبین مصر میں حکومتی حکام اور معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں سے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

یہ مذاکرات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب معزول صدر کے حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے دو بڑے احتجاجی مظاہروں کو فوج کی جانب سے ختم کرنے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

مصر میں تین جولائی کو فوج نے صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چند روز قبل عبوری حکومت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے احتجاجی کیمپوں کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر دیا جائے۔

معزول صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی عبوری حکومت کی جانب سے دھرنے ختم کرنے کے حکم نامے کے باوجود احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک میں یہ احتجاجی دھرنے جاری ہیں اور جمعہ کو مظاہرین نے تیسری جگہ پر بھی احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔

سنیچر کو مصری وزارتِ داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دھرنے ختم کرنا اخوان المسلمین کو جمہوری سیاسی عمل کا حصہ بننے دے گا۔

جمعرات کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مصر میں فوج نے جمہوریت بحال کرنے کے لیے صدر مرسی کو اقتدار سے الگ کیا۔

قاہرہ میں نمازِ جمعہ کے بعد مساجد سے لوگ تیس کے قریب احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے رابعہ العداویہ مسجد میں جاری دھرنے میں شامل ہو گئے۔

رابعہ العداویہ مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں مرسی کے حامیوں نے خواتین اور بچوں سمیت تین ہفتے سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے اور معزول صدر کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بدھ کو مصر کی وزیر اطلاعات دوریا شرف الدن نے ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا تھا جس کے مطابق ’کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

بیان کے مطابق’ قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک پر جاری دھرنے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی اور سڑکوں کی ناکہ بندی اب ناقابل برداشت ہے اور یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو قانون اور آئین کے مطابق دھرنے ختم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ایک ماہ سے جاری احتجاجی دھرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔

اسی بارے میں