متعدد امریکی سفارتخانے ایک ہفتے تک بند

Image caption سفارتخانوں کی بندش میں توسیع صرف احتیاطی اقدام ہے: امریکی وزارتِ خارجہ

امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کے انیس سفارتی مشن ممکنہ دہشتگرد حملوں کے پیشِ نظر سنیچر کے روز تک بند رہیں گے۔

اتوار کو مختلف ممالک میں اکیس سفارتی دفاتر بند کر دیے گئے تھے۔

واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارتخانوں کی بندش میں توسیع صرف احتیاطی اقدام ہے، نہ کہ کسی نئے خطرے کا ردِعمل۔

پیر کو کھل جانے والے سفارتی دفاتر میں الجزائر، کابل اور بغداد میں امریکی سفارت خانے شامل ہیں۔

تاہم ابو ظہبی، امان، قاہرہ، ریاض، دھران، جدہ، دوحہ، دوبئی، کویت، ماناما، مسقط، صنعا، طرابلس، اناتاریوہ، بوجمبورہ، جبوتی، خرطوم، کیگالی اور پورٹ لوئس میں امریکی سفارتی دفاتر سنیچر کے روز تک بند رہیں گے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے جمعے کو امریکی شہریوں کے ان ممالک میں سفر کرنے کے حوالے سے ایک انتباہ جاری کیا تھا جو اگست کے آخر تک نافذالعمل رہے گا۔

محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور اس کے حامی نیٹ ورکس کی جانب سے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں واقع اس کے سفارت خانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

صدر اوباما کی اعلیٰ سطحی سکیورٹی ٹیم نے ہفتے کے روز صدر سے مل کر انھیں سکیورٹی کی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس کے علاوہ اس اجلاس میں محکمۂ دفاع اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے اعلیٰ حکام اور ایف بی آئی، سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہان شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر کو گذشتہ ہفتے کے دوران ممکنہ خطرے اور ہماری تیاری کے بارے میں متعدد بریفنگز دی گئی ہیں۔‘

اتوار کو شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے کئی ملکوں میں امریکی سفارت خانے بند رکھے جائیں گے۔ اس دن بیشتر مسلمان ملکوں میں چھٹی نہیں ہوتی۔

اطلاعات کے مطابق یہ بندش اس کے بعد آئی ہے جب امریکہ نے القاعدہ کے پیغامات کا سراغ لگایا۔

کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو پکڑی گئی جس میں ایک سفارت خانے پر حملے کا ذکر تھا۔

محکمۂ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ اور اس کی اتحادی تنظیمیں خطے میں اور اس کے باہر حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، اور یہ کہ وہ اب اور اگست کے آخر تک حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘

سفری انتباہ میں امریکی مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ محتاط رہیں۔ انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ ’دہشت گرد ممکنہ طور پر عوامی سفری نظام اور سیاحت کے مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘

ایک امریکی عہدے دار نے کہا کہ اس خطرے کی ایک وجہ رمضان کا مہینہ ہو سکتا ہے جو اگلے ہفتے ختم ہو رہا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک نے یمن میں اپنے سفارتی مشن عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یمنی دارالحکومت صنعا میں اس کا سفارت خانہ جمعرات تک بند رہے گا۔

اپنی ویب سائٹ پر برطانیہ نے اپنے شہریوں کو یمن نہ جانے اور وہاں موجود شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

ویب سائٹ پر لکھا گیا ہے کہ درج ذیل ممالک میں امریکی سفارتی مشن اتوار کو بند رہیں گے: عرب امارات، الجیریا، عمان، اردن، عراق، مصر، سعودی عرب، جبوتی، بنگلہ دیش، قطر، افغانستان، سوڈان، کویت، بحرین، موریطانیہ، یمن اور لیبیا۔

اسی بارے میں