ہانڈوراس کی جیل میں بلوہ، فوج بھیج دی گئی

Image caption رپورٹوں کے مطابق ہانڈوراس کی جیلوں میں انسانی حقوق کی حالت بےحد خراب ہے

ہانڈوراس کے دارالحکومت تیگوسیگالپا کے قریب واقع ملک کی مرکزی جیل میں بلوے میں تین قیدیوں کے قتل کے بعد وہاں فوج بھیج دی گئی ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ اس بلوے میں تین سکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

صدر پورفیرو لوبو نے کہا کہ فوج بھیجنے کا مقصد ’ہماری جیلوں کے نظام سے مجرموں کی عمل داری‘ ختم کرنا ہے۔

اس سے قبل ایک رپورٹ آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے قیدیوں کی اصلاح سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں اور جیلوں کو قیدیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

براعظم امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ ملک کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی بھرے ہوئے ہیں اور وہاں بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانڈوراس کی جیلوں میں 12 ہزار قیدی ہیں جب کہ کل گنجائش آٹھ ہزار قیدیوں کی ہے۔

پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ جیل میں بلوہ اس وقت پھوٹا جب قیدیوں کے مختلف گینگ آپس میں الجھ پڑے۔

یہ جیل دارالحکومت تیگوسیگالپا کے شمال میں واقع ہے اور اس میں 3300 قیدی ہیں۔

جیلوں کے ڈائریکٹر سمیون فلوریس نے کہا کہ حکام جیل کی کمرا بہ کمرا تلاشی لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہاں اصل میں کیا ہوا تھا۔

جھڑپ کے بعد حکام کو جیل میں دستی بم اور آتشیں اسلحہ ملا۔

اس کے چند گھنٹوں بعد حکومت نے فوج کے حکم دیا کہ وہ جیل کا انتظام سنبھال لے، اور کہا کہ وہ جیل پر مجرموں کا تسلط ختم کرنا چاہتی ہے۔

یہ تشدد اس کے ایک دن بعد بھڑکا ہے جب ہانڈوراس کی جیلوں کے بارے میں ایک نئی رپورٹ میں جیلوں کے نظام کو ’غیر انسانی، حریصانہ اور بدعنوان‘ بتایا گیا تھا۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جیلیں عملاً قیدیوں کے کنٹرول میں ہیں، جن میں سے اکثر کا تعلق ملک کے پرتشدد گینگوں سے ہے، جو جیل کے اندر قواعد و ضوابط ترتیب دیتے ہیں اور دوسرے قیدیوں کو جسمانی سزائیں تک دیتے ہیں۔

اسی بارے میں