ایران کے ساتھ ’شراکت داری‘ ممکن ہے: امریکہ

Image caption حسن روحانی ایران کے سابقہ چیف جوہری مذاکرات کار رہے ہیں

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’شراکت داری‘ ممکن ہے۔

یہ بات ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کے تہران میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے موقع پر کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب ایک موقع ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھائے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے خدشات کو دور کرے۔

’پابندیوں کی زبان میں بات نہ کریں‘

’یورینیئم کی افزودگی بند نہیں ہو گی‘

حسن روحانی کون ہیں؟

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ صدر روحانی کی حلف برداری نے ایران کو ’یہ موقع دیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شدید عالمی خدشات کو حل کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان کی حکومت سنجیدگی کے ساتھ اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہے اور اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہے تو اس امریکہ کی شکل میں ایک رضامند ساتھی ملے گا۔‘

صدر روحانی نے پارلیمان سے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ وہ ایک ایسی حکومت بنائیں گے جو ’دانشمند اور امید دلانے والی‘ ہو گی اور تمام ایرانیوں کی نمائندگی کرنے والی ہو گی۔

انہوں نے عالمی پابندیوں پر تنقید کی اور کہا کہ ’اگر آپ ایک تسلی بخش رد عمل چاہتے ہیں تو آپ کو پابندیوں کی زبان میں بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ آپ کو احترام کے ساتھ مخاطب ہونا چاہیے‘۔

سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دورِ اقتدار میں امریکہ اور ایران کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے۔

صدر احمدی نژاد نے اکثر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بیانات دیے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر روحانی کی تقریر کا لہجہ مفاہمتی تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایران کے اندر اور باہر موجود قوتوں سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے تقریر میں کہا کہ ’عالمی تعلقات کے حوالے سے میری حکومت ایران اور خطے کی طاقتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طاقتوں سے باہمی اعتماد پر مبنی روابط استوار کرنے کی کوشش کرے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’باہمی اعتماد شفافیت سے ہی بنتا ہے۔ اور جس شفافیت کی ہم بات کر رہے ہیں وہ یک طرفہ نہیں ہو سکتی۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کیتھی واٹسن کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد اب بہتری آئے۔

انیس سو اڑتالیس میں پیدا ہونے والے حسن روحانی ایران کے سابقہ چیف جوہری مذاکرات کار رہے ہیں۔

انہیں اصلاح پسندوں کی حمایت بھی حاصل ہے جو ان سے یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عالمی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

صدر روحانی نے اقوام متحدہ میں سابق ایرانی سفیر جواد ظریف کو اپنا وزیر خارجہ نامزد کیا ہے جنہیں معتدل سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔

لندن میں ایران کے امور پر بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وہ صدر کا عہدہ تو سنبھال رہے ہیں لیکن ایران میں ہونے والے فیصلوں میں ان کا کردار سب سے اہم نہیں ہوگا۔

Image caption لندن میں ایران کے امور پر بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وہ صدر کا عہدہ تو سنبھال رہے ہیں لیکن ایران میں ہونے والے فیصلوں میں ان کا کردار سب سے اہم نہیں ہوگا

نامہ نگار نے یہ بھی کہا کہ انہیں لبرل کہنا غلط ہو گا اور یہ کہ ایران میں صدر کی بجائے ملک کےروحانی رہبر اعلیٰ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی حاصل کرنے کے لیے ہے اور اس کے کوئی عسکری عزائم نہیں ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے اکثر اس بات کی شکایت کی ہے کہ انہیں چند جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی جاتی۔

یاد رہے کہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے قبل یوم قدس کے موقع پر حسن روحانی نے اسرائیل کی فلسطین پر قبضے کے بارے میں کہا کہ ’یہ عالم اسلام کے جسم پر ایک پرانا زخم ہے۔‘

فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منائے جانے والے اس دن پر ان کا یہ بیان ایران کے سابقہ لیڈروں کے بیانات کی ہی ایک گونج تھی۔

ایران نے 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ جمعے کو اپنی صدارت کے آخری دن ایک انٹرویو میں احمدی نژاد نے اسرائیل کو تنبیہ کی کہ خطے میں ایک ’طوفان اٹھ رہا ہے‘ جو صیہونیت کو جڑ سے اکھاڑ دے گا۔

کئی ایرانیوں کا ماننا ہے کہ دو مرتبہ متنازع انتخاب کے ذریعے اقتدار میں آنے والے محمود احمدی نژاد نے ملک کو اقتصادی بدحالی اور دنیا کے ساتھ جنگ کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

اسی بارے میں