تیمرلان کے پاس ’شدت پسندانہ مواد تھا‘

Image caption جوہر سارنایف کو کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد ایک کشتی میں سے پکڑا گیا تھا

بوسٹن میں ہونے والے بم دھماکوں کے ملزموں میں سے ایک بھائی کے پاس حملے کرنے سے پہلے امریکی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا تحریری مواد موجود تھا۔ یہ بات بی بی سی کے پروگرام پینوراما نے دریافت کی ہے۔

تیمرلان سارنایف سفید فاموں کی نسلی برتری اور حکومت کی سازشوں کے بارے میں کتابیں پڑھتے تھے۔ ان کے پاس قتلِ عام کے بارے میں بھی تحریری مواد موجود تھا۔

اس وقت تک سمجھا جاتا تھا کہ سارنایف برادران خودساختہ انتہاپسند جہادی تھے۔

’حملے خود کیے‘

آخر جوہر نے یہ سب کیوں کیا؟

میرا بیٹا فرشتہ صفت ہے

پینوراما نے کئی ماہ صرف کر کے دونوں بھائیوں کے ساتھیوں سے خصوصی گفتگو کی تاکہ ان کی انتہاپسندی کی وجوہات تلاش کی جا سکیں۔

پروگرام کو معلوم ہوا کہ تیمرلان کے پاس ایسا مواد موجود تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نائن الیون اور 1995 میں اوکلاہوما سٹی میں ہونے والا حملہ دراصل امریکی حکومت کی سازش تھی۔

ان کے پاس موجود ایک اور مضمون کا عنوان تھا، ’ہمارے اسلحے کے حقوق کا ریپ۔‘ ایک اور مضمون میں لکھا تھا کہ ’ہٹلر کے پاس جواز موجود تھا۔‘

Image caption جوہر نے عدالت میں پیشی کے دوران الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا

تیمرلان کے پاس ایسا مواد بھی تھا جس میں لکھا تھا کہ قتل عام کے محرکات کیا ہوتے ہیں اور قاتل کیسے لوگوں کو اطمینان سے قتل اور زخمی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ اور تحریریں امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور گوانتانامو بے میں قیدیوں کے مصائب کے بارے میں تھیں۔

سارنایف برادران کا تعلق چیچنیا سے تھا، اور انھوں نے اپنا بچپن اس جنگ زدہ علاقے میں گزارا تھا۔ تاہم گذشتہ ایک عشرے سے وہ بوسٹن شہر کے نزدیک کیمبرج قصبے میں رہتے تھے۔

ان بھائیوں کے دوستوں نے ہمیں بتایا کہ جب تیمرلان کا باکسنگ کیریئر امریکی شہریت نہ ہونے کی بنا پر آگے بڑھ نہیں سکا تو وہ امریکہ کے خلاف پرجوش مسلمان بن گیا۔

تاہم یہ دوست اس ڈر سے کھل کر بات کرنے سے ہچکچا رہے تھے کہ کہیں انھیں دہشت گردی کے ساتھ منسلک نہ کر لیا جائے۔

ایک دوست مائیک (فرضی نام) نے دونوں بھائیوں کے فلیٹ میں خاصا وقت گزارا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’تیمرلان امریکہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ملکوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔۔۔ اور ان کا تیل ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

کیمبرج میں تیمرلان کی مسجد کی ترجمان نکول مسلم نے کہا کہ وہ کبھی کبھار ہی نماز پڑھنے آتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ تیمرلان برہم نوجوان تھے جنھوں نے اسلام کا سہارا لیا:

’جہاں تک اسلامی برادری سے تعلق رکھنے، نماز پڑھنے، فلاحی کام کرنے وغیرہ کا سوال ہے تو یہ ساری چیزیں ان میں نہیں تھیں۔

’میرا خیال ہے کہ وہ صرف اپنی سہولت کی خاطر مسلمان بنے تھے۔‘

تیمرلان کے چھوٹے بھائی جوہر نے گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل ایک نوٹ لکھا تھا: ’ہم مسلمان ایک جسم ہیں۔ تم ایک کو نقصان پہنچاؤ گے تو ہم سب کو نقصان پہنچے گا۔‘

Image caption امریکی حکام کو شبہ ہے کہ زبیدہ سارنایف نے اپنے بیٹوں کو انتہاپسندی کی طرف دھکیلا

دونوں بھائی حملوں سے قبل اسلامی عسکریت پسندوں کی ویب سائٹیں پڑھتے رہے تھے۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ چھوٹا بھائی بڑی مقدار میں چرس پیتا تھا اور نماز کبھی کبھار ہی پڑھتا تھا۔

ایک اور دوست نے ہمیں بتایا کہ بڑا بھائی جوہر پر بالادست تھا اور اس کا طرزِ زندگی پسند نہیں کرتا تھا: ’وہ اپنے بڑے بھائی سے خوفزدہ رہتا تھا۔ وہ اس کی بات کو حرفِ آخر سمجھتا تھا اور اسے بہت سنجیدگی سے لیتا تھا۔ وہ حاکم کی طرح تھا۔‘

ایف بی آئی اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا تیمرلان کے شورش زدہ روسی ریاست داغستان کے انتہاپسندوں کے ساتھ تعلقات تو نہیں تھے۔

واشنگٹن میں ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک روجرز نے کہا کہ ان کے خیال ان کی والدہ زبیدہ سارنایف نے دونوں بیٹوں کو انتہاپسند بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

زبیدہ نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔

تیمرلان پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا، جب کہ چھوٹے بھائی جوہر کو پولیس نے کئی گھنٹوں بعد گرفتار کیا تھا۔

جوہر کو حال ہی میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے اپنے اوپر لگائے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو جوہر کو عمرقید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں