ترکی: سابق فوجی سربراہ کو عمر قید کی سزا

Image caption استغاثہ نے جنرل الکر اور دیگر 63 افراد جن میں نو مزید جنرلز شامل ہیں کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا ہے

ترکی کی ایک عدالت نے سابق فوجی سربراہ الکر باشبو کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے میں قصور وار ٹھہراتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں قائم ایک مقدمے میں جن فوجیوں، صحافیوں اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ 275 افراد کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا اس میں سابق فوجی سربراہ بھی شامل تھے۔

سیکولر جماعت کی جانب سے معتدل اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا یہ مقدمہ سنہ 2008 میں شروع ہوا تھا۔

یہ مقدمہ ’ارگینیکون‘ کے نام سے مشہور ہے۔ گرفتار افراد کا تعلق مبینہ طور پر ایک خفیہ اور انتہائی قوم پرست گروپ ارگینیکون سے ہے جو معتدل اسلامی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

اس مقدمے کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی اور عدالت کے آس پاس سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیےگئے۔

پانچ سال سے زائد عرصے سے جاری اس مقدمے میں عدالت 21 افراد کو پہلے ہی بری کر چکی ہے۔

جنرل باشبو سنہ 2008 اور 2010 کے درمیان فوج کے سربراہ تھے اور انھوں نے خود پر عائد تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اس کیس میں جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی ان میں ریٹائرڈ فوجی جنرل، حکومت مخالف صحافی اور بعض دانشور بھی شامل ہیں۔

ان افراد پر جسٹس اور ڈیویلیپمنٹ پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام ہے۔

استغاثہ نے جنرل الکر اور دیگر 63 افراد، جن میں 9 دیگر فوجی جنرلز بھی شامل ہیں، کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا تھا۔

اس مقدمہ کو وزیراعظم طیب اردگان اور ان کے فوجی مخالفین کے درمیان آزمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس کیس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ جنرل الکر اور دیگر افراد کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کے خلاف ثبوت کم ہیں اور وہ حکومت پر اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کا الزامات عائد کرتے ہیں لیکن حکومت ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

ترکی میں کئی سکیولر مزاج لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکمران جماعت ترکی میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کی جانب سے جامعات میں حجاب پہننے پر پابندی کو ختم کرنے کی کوششیں ایک طرح کی گواہی ہیں کہ یہ پارٹی اسلامی نظام چاہتی ہے۔

سنہ 2002 میں ترکی کے وزیر اعظم طیب اردوگان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سینکڑوں فوجی افسران کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ترکی میں فوج نے کئی مرتبہ اقتدار پر قبضہ کیا ہے اور فوج یہ سمجھتی ہے کہ وہ ملک کی سکیولر اقدار کی حتمی محافظ ہے۔

ترکی کی فوج نے 1960 اور 1980 کے درمیان تین بار حکومتوں کا تختہ الٹا تھا۔

اسی بارے میں