’حکومت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے‘

ملا عمر
Image caption ملا عمر کو دو ہزار گیارہ کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا ہے

افغان طالبان کے رہنما ملا عمر نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کے جنگجو اگلے سال غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

عید کے موقع پر جاری ہونے والے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کے ساتھ مل کر اسلامی اصولوں پر مبنی ایک ایسی حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں گے جس میں سب شامل ہوں۔

افغان حکومت میں شراکت چاہیے: ملا عمر

طالبان ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں: پاکستان

امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پُرعزم

انہوں نے اگلے سال منعقد ہونے والے انتخابات کے بارے میں اپنی برہمی کا اظہار بھی کیا۔

ملا عمر 2001 سے روپوش ہیں اور ان کے سر پر ایک کروڑ امریکی ڈالر کا انعام ہے۔

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ تجزیہ کاروں نے ملا عمر کے اس بیان کو ’اصلی‘ قرار دیا ہے۔

ملا عمر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’2014 میں منعقد ہونے والے انتخابات دھوکہ ہیں اور عوام اس میں حصہ نہیں لیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں جیتنے والے کا انتخاب ’درحقیقت واشنگٹن میں ہوتا ہے اور ان میں حصہ لینا صرف وقت کا ضیاع ہے۔‘

ہماری نامہ نگار کے مطابق 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان انتخابات کو افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

طالبان نے افغانستان کے عوام سے گذشتہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا کہا تھا۔ طالبان نے پولنگ سٹیشنز تک جانے والی سڑکیں بلاک کر دی تھیں اور امیدواروں اور کارکنوں پر حملے بھی کیے تھے۔

ملا عمر گذشتہ کئی سالوں سے عید سے قبل افغانستان کے عوام کے نام پیغام جاری کر رہے ہیں۔

2001 میں امریکہ کی جانب سے افغانستان پر کیے جانے والے حملے میں وہ افغانستان سے نکل گئے تھے اور انہیں اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔ البتہ نامہ نگاروں کے مطابق عام خیال یہی ہے کہ وہ پاکستان میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں