جبرالٹر کے مسئلے پر برطانیہ اور سپین میں کشیدگی

سپین کی طرف سے جبرالٹر سے آنے والی گاڑیوں کی سخت چیکنگ اور ان پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد برطانیہ اور سپین میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

جبرالٹر تین سو سال سے برطانیہ کی حکمرانی میں ہے۔ سپین جبرالٹر کو اپنے علاقہ گرادنتا ہے اور وہ جبرالٹر پر برطانوی حاکمیت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

برطانیہ کا موقف ہے کہ یہ علاقے 1713 میں سپین کے بادشاہ نے برطانیہ کو تحفے میں دیا تھا اور وہ جبرالٹر کے عوام برطانیہ سے اپنا الحاق جاری رکھنا چاہتے ہیں اور وہ ان کی خواہشات کے برعکس کوئی فیصلہ نہیں کرےگا۔

سپین کے وزیر کی طرف جبرالٹر کو جانے والے جہازوں کو سپین کے فضائی حدود نہ استعمال کرنے کی دھمکی دینے اور جبرالٹر سے آنے اور جبرالٹر کو جانے والی گاڑیوں پر پچاس یورو ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی پر برطانیہ نے اس شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نےکہا ہے کہ انہیں جبرالٹر کے معاملے پر سپین کے رویے پر انتہائی تشویش ہے

یورپی یونین نے سپین اور برطانیہ میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یورپی یونین نے سپین سے کہا ہے کہ وہ یونین کے قواعد کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائے۔

ادھر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ نگرانوں کی ایک ٹیم علاقے میں بھیجےگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی نگرانوں کی ٹیم ستمبر یا اکتوبر میں جبرالٹر اور سپین کی سرحد پر پہنچ جائے گی۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے جبرالٹر کے وزیر اعلیٰ فیبیان پکارڈو سے بات چیت کی ہے اور انہیں برطانیہ کی غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نےکہا کہ وہ سپین کے ہر اقدام کا جواب دیں گے لیکن بیان بازی کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ سپین کو اپنے خدشات سے آگاہ کرتا رہے گا۔