القاعدہ کہاں کہاں ہے؟

القاعدہ کے خفیہ سیل درجنوں ممالک میں ہو سکتے ہیں لیکن اس کے اور اس کی حمایتی تنظیموں کی مرکزی کارروائیاں مختلف ممالک میں کی جاتی ہیں جن کا مختصر ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

افغانستان اور پاکستان

القاعدہ 1988 میں پاکستان کے شہر پشاور میں قائم کی گئی تھی۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقہ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا تھا۔

القاعدہ کا طالبان کے ساتھ تعاون کی وجہ سے افغانستان سے روس کے جانے کے بعد اور نائن الیون سے قبل انھیں افغانستان میں پناہ مل گئی۔

سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے باعث اسامہ بن لادن پاکستان منتقل ہو گئے جہاں ان کو امریکہ کے خصوصی فوجی دستوں نے ایبٹ آباد میں مئی 2011 میں قتل کیا۔

اسامہ بن لادن کے بعد ایمن الظواہری کو جون 2011 میں القاعدہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے رہنماؤں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ڈرون حملوں میں تیزی لایا ہے۔

پاکستان میں القاعدہ کے حامی لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ ہیں۔ ان تنظیموں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مبینہ طور پر القاعدہ کے سینیئر رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتی ہیں۔

لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید نے اسامہ بن لادن کی القاعدہ قائم کرنے میں مدد کی۔ ان کی تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے 2008 کے ممبئی حملے کیے تھے۔

حقانی نیٹ ورک اور پاکستان طالبان کے علاوہ دیگر کئی تنظیمیں بھی القاعدہ کی حامی ہیں جیسے کہ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو)۔ آئی ایم یو کو بھی القاعدہ کی طرح 2001 میں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ملیں۔

جزیرہ نما عرب

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ یعنی اے کیو اے پی جنوری 2009 میں یمن اور سعودی عرب کی دو تنظیموں کے ملاپ کے بعد وجود میں آئی۔

اس تنظیم نے سعودی عرب اور یمن میں تیل کی تنصیبات، غیر ملکیوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعادہ کیا ہے۔ وہ سعودی عرب میں بادشاہت اور یمنی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ یہ تنظیم خلافت کے حق میں ہے۔

اس تنظیم کے کارکن دسمبر 2009 میں امریکی شہر ڈیٹروئٹ جانے والے مسافر بردار جہاز کو اڑانے کی سازش میں ملوث سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکتوبر 2010 میں ایک مال بردار ہوائی جہاز میں بم ملنے میں بھی ملوث تھے۔

اس تنظیم کے اہم رہنما سنہ 2011 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

عراق

ایک جہادی گروہ سنہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے خلاف وجود میں آیا اور 2004 میں القاعدہ کی حمایت کا اعلان کیا۔

عراق میں القاعدہ کو جہادی تنظیموں کی القاعدہ بھی کہتے ہیں۔ یہ تنظیم گزشتہ دس سالوں میں کئی حملوں میں ملوث رہی ہے جن میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

عراق میں دہشت گردی کی کارروائیاں 07-2006 میں عروج پر تھیں کیونکہ القاعدہ اور دیگر سنی گروہوں نے تعاون کیا۔ اس کے جواب میں شیعہ تنظیموں نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کر دیں۔

القاعدہ کو اس وقت نقصان پہنچا جب 2008 میں سنی عرب قبائل نے ان کی حمایت ختم کردی۔

شام

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے جہادی اسلامی شدت پسند پیش پیش رہے۔ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری شورش کے دوران اعتدال پسندوں اور سخت گیر اسلامی شدت پسندوں کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔

خیال رہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے القاعدہ کے جنگجوؤں سے استدعا کی تھی کہ شام میں اسلامی ریاست کے قیام کی کوشش کریں۔

رواں برس اپریل میں عراق کی اسلامی ریاست کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے شام کے جہادی گروپ النصرہ کے ساتھ ادغام کر رہے ہیں۔ تاہم النصرہ گروپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

مشرقی افریقہ

شدت پسند تنظیم القاعدہ مشرقی افریقہ میں کافی عرصے سے متحرک ہے۔ القاعدہ نے اگست سنہ 1998 میں نیروبی اور تنزانیہ میں امریکی سفارت کاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ حملے مصر، سوڈان، کینیا، تنزانیہ اور سعودی عرب کے جنگجوؤں نے کیے۔ صومالیہ کے مرکزی اور جنوبی حصے اسلامی گروپ الشباب کے شدت پسندوں کے زیرِ اثر ہیں۔ الشباب کا کہنا ہے کہ اس نے جولائی سنہ 2010 میں یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں دو بم دھماکوں کروائے تھے جس میں کم سے کم 76 افراد ہلاک ہوئے تھے

شمالی اور مغربی افریقہ

صحارا کا وسیع ریگستانی علاقہ القاعدہ کے شدت پسندوں کے لیے پسندیدہ جگہ رہا ہے۔ القاعدہ کی اسلامک مغرب نامی ذیلی تنظیم الجیریا میں بہت منظم ہے اور اس کے کارکن پورے صحرا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اسلامک مغرب کی جڑیں سنہ 1990 میں الجیریا میں ہونے والی خانہ جنگی سے ملتی ہیں۔ اس کا اصل نام سلفی گروپ فار پریچنگ اینڈ کامبیٹ تھا اور اس نے خود سے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے اپنا تعلق جوڑا تھا۔ اس تنظیم نے سنہ 2007 میں اپنا نام بدل لیا تھا۔

اس تنظیم کے سربراہ کا نام ابو مصاب عبدل الودود تھا۔

اس گروپ سے بعد میں ایک اور گروپ سامنے آیا۔ اس نئے گروپ کے سربراہ کا نام مختار بلمختار تھا۔ اس گروپ نے جنوری سنہ 2013 میں الجیریا کے شہر آمیناس کے ایک گیس پلانٹ کا گھیراؤ کر کے 69 افراد کو ہلاک کیا تھا

یورپ

یورپ میں القاعدہ کی موجودگی اس طرح سے منظم نہیں ہے جس طرح باقی دنیا میں ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں پر شدت پسند القاعدہ سے متاثر ہیں لیکن ان کو ہمیشہ القاعدہ سے ہدایات نہیں ملتی۔

لندن میں سات جولائی 2005 کو حملے میں 52 افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آوروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق القاعدہ سے تھا۔

2006 میں بھی کھاد سے بنائے گئے بموں سے جہازوں کو اْڑانے کا منصوبہ ناکام بنایا گیا تھا اور بعد میں اس حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں پانچ افراد کو سزائیں ہوئی تھیں۔

حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں تشدد کے واقعات کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے مردوں کو سزائیں ہوئی ہیں۔ ان میں انگلش ڈیفنس لیگ کا جلوس اور ’سات جولائی اور9 /11 کے مظالم کے متلعق‘ حملوں کی منصوبہ بندی شامل تھی۔

جرمن پولیس نے اپریل 2011 میں القاعدہ کے تین مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا تھا جن کےمتعلق انھیں یقین تھا کہ وہ بہت خطرناک ہیں۔

یورپ میں ستمبر 2010 میں دہشت گردی کے دوسرے خطرناک منصوبوں کا انکشاف اس وقت ہوا جب مغربی ممالک کے جاسوسی اداروں نے کہا کہ انھوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں لوگوں کو اغوا کرکے قتل کرنے کے منصوبے ناکام بنائے ہیں۔

اسی طرح مارچ 2004 میں میڈرڈ میں ٹرین میں دھماکوں کی ذمہ داری بھی القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے قبول کی تھی۔ اس واقعے میں تقربیاً 200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

9/11 کے واقعے کی ذمہ داری القاعدہ کی جس سیل پر ڈالی گئی تھی اس کا ٹھکانہ ہیم برگ میں تھا۔ وہاں جس مسجد میں 9/11 کے منصوبہ بندی کرنے والوں کا آنا جانا تھا اسے 2010 میں بند کر دیا گیا کیونکہ وہاں پر مبینہ طور پر شدت پسند رہائش پذیر تھے۔

ایشیا پیسیفیک

اس خطے میں القاعدہ سے مبینہ طور پر منسلک دو گروپوں کا تعلق انڈونیشیا اور فلپائن سے ہے۔

انڈونیشیا میں قائم جامعہ اسلامیہ گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2002 میں بالی میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث تھا۔ اس واقعے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس گروپ پر 1980 کے دہائی میں مشرقی انڈونیشیا میں عیسائیوں اور وزارتِ سیاحت پر حملوں کی ذمہ داری بھی ڈالی جاتی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ جنوبی فلپائن میں ابو سیاف گروپ کا تعلق القاعدہ نیٹ ورک سے ہے۔ یہ گروپ اغوا برائے تاوان کی کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد مینڈانو اور سولو جزائر میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہے۔