یمن: ’القاعدہ کی سازش ناکام بنا دی‘

Image caption ٹینکوں اور فوجیوں نے غیر ملکی سفارت خانوں، حکومتی دفاتر اور ایئر پورٹ کا گھیراؤ کر لیا ہے

یمن میں حکام کے مطابق القاعدہ کی جانب سے تیل کی پائپ لائنوں کو تباہ کرنے اور ملک کی چند اہم بندر گاہوں کو قبضے میں لینے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

یمن میں اہم مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ سینکٹروں کی تعداد میں بکتر بند گاڑیوں کو اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب یمن میں خفیہ اداروں کی جانب سے جاری کی جانے والے نئے سکیورٹی الرٹ کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے یمن سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلوا لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ یمن میں القاعدہ کے خلاف ممکنہ حملے کے لیے اپنی خصوصی افواج کو تیار کر رہا ہے۔

امریکی شہریوں کو یمن سے نکلنے کی ہدایت

یمن: القاعدہ کے رہنما الشہری ہلاک

واشنگٹن میں موجود بی بی بی کے نامہ نگار ڈیوڈ ویلس کا کہنا ہے کہ یمن القاعدہ کی منصوبہ بندی کا ایک بڑا مرکز تھا اور اگر ان کی سازش کامیاب ہو جاتی تو القاعدہ کو یمن کے اہم بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل ہو جاتا۔

یمن کی حکومت کے ترجمان راجیہ بادی کا کہنا ہے کہ سازش میں تیل کی پائپ لائنوں کو تباہ کرنا اور ملک کے چند شہروں کا کنٹرول حاصل کرنا تھا جن میں ملک کے جنوب میں دو بندر گاہیں بھی شامل تھیں۔

ترجمان کے مطابق ان دو بندرگاہوں میں سے ایک میں یمن کے تیل کو برآمد کے دفاتر تھے جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن کام کرتے ہیں۔

بادی کا کہنا ہے کہ سازش میں یمن کے اہم شہروں کا کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل تھا۔

انھوں نے بتایا کہ سازش کے مطابق القاعدہ کے ارکان سپاہیوں کا لباس پہن کر بندر گاہوں کے باہر جمع ہوتے اور اشارہ ملنے پر حملہ کرتے اور وہاں کا کنٹرول سنھبال لیتے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی نے یمنی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انھیں یقین ہے اس حملے کا مقصد القاعدہ کے ایک سینئیر رہنما کی ہلاکت کا بدلہ لینا تھا۔

Image caption امریکی وزارتِ خارجہ نے سکیورٹی الرٹ کے سبب اپنے شہریوں اور غیرلازمی سرکاری عملے کو ’فوری طور پر‘ یمن چھوڑنے کی ہدایت کی تھی

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عبداللہ گوراب کا کہنا ہے کہ شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں اور سینکڑوں بکتر بند گاڑیوں کو شہر کے گرد تعینات کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ٹینکوں اور فوجیوں نے غیر ملکی سفارت خانوں، حکومتی دفاتر اور ہوائی اڈے کا گھیراؤ کر لیا ہے جبکہ یمن کے سینئیر حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت کو محدود کر دیں۔

اس سے پہلے امریکی وزارتِ خارجہ نے سکیورٹی الرٹ کے سبب اپنے شہریوں اور غیرلازمی سرکاری عملے کو ’فوری طور پر‘ یمن چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔

امریکی میڈیا کے مطابق القاعدہ کے دو رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے پکڑے جانے کی وجہ سے عالمی سطح پر مختلف امریکی سفارت خانوں کو بند کیا گیا تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس گفتگو میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری بھی شامل تھے اور اس میں 11 ستمبر کے حملے کے بعد سب سے بڑے حملے کی بات کی گئی تھی۔

دوسری جانب برطانوی دفترِ خارجہ نے بھی یمن میں اپنے سفارت خانے کے تمام عملے کو واپس بلا لیا تھا اور اپنے شہریوں کو یمن سفر کرنے پر خبردار کیا تھا۔

اسی بارے میں