برطانوی بحری جنگی جہاز جبرالٹر کے دورے پر

Image caption سپین کی طرف سے جبرالٹر سے آنے والی گاڑیوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد برطانیہ اور سپین میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں جبرالٹر کے معاملے پر سپین اور برطانیہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کےبعد برطانیہ نے ایک بحری جنگی جہاز کو جبرالٹر کے ’معمول‘ دورے پر روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزارت دفاع نےکہا کہ بحری جہاز کا یہ دورہ بہت عرصہ پہلے سے طے تھا اور یہ ’معمول‘ کا دورہ ہے۔ ایچ ایم سی ویسٹ منسٹر نامی بحری جنگی جہاز کے ہمراہ دو اور جہاز پرتگال، سپین، ترکی اور مالٹا کی بندرگاہوں سے ہوتے ہوئے جبرالٹر پہنچیں گے۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے کہ جبرالٹر برطانیہ کا سٹریٹجک اڈا ہے اور رائل نیوی کے جہاز سارا سال اس نیول اڈے پر آتے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ بدھ کو برطانوی وزیر اعظم نے سپین کے وزیر اعظم مارینو راجوے سے اپنی ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا تھا۔

سپین کی طرف سے جبرالٹر سے آنے والی گاڑیوں کی سخت چیکنگ اور ان پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد برطانیہ اور سپین میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

جبرالٹر تین سو سال سے برطانیہ کی حکمرانی میں ہے۔ سپین جبرالٹر کو اپنے علاقہ گرادنتا ہے اور وہ جبرالٹر پر برطانوی حاکمیت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

برطانیہ کا موقف ہے کہ یہ علاقے 1713 میں سپین کے بادشاہ نے امن معاہدے کے بعد برطانیہ کو تحفے میں دیا تھا اور وہ جبرالٹر کے عوام برطانیہ سے اپنا الحاق جاری رکھنا چاہتے ہیں اور وہ ان کی خواہشات کے برعکس کوئی فیصلہ نہیں کرےگا۔

سپین کے وزیر کی طرف جبرالٹر کو جانے والے جہازوں کو سپین کے فضائی حدود نہ استعمال کرنے کی دھمکی دینے اور جبرالٹر سے آنے اور جبرالٹر کو جانے والی گاڑیوں پر پچاس یورو ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی پر برطانیہ نے اس شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نےکہا ہے کہ انہیں جبرالٹر کے معاملے پر سپین کے رویے پر انتہائی تشویش ہے

یورپی یونین نے سپین اور برطانیہ میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یورپی یونین نے سپین سے کہا ہے کہ وہ یونین کے قواعد کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائے۔

ادھر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ نگرانوں کی ایک ٹیم علاقے میں بھیجےگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی نگرانوں کی ٹیم ستمبر یا اکتوبر میں جبرالٹر اور سپین کی سرحد پر پہنچ جائے گی۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے جبرالٹر کے وزیر اعلیٰ فیبیان پکارڈو سے بات چیت کی ہے اور انہیں برطانیہ کی غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نےکہا کہ وہ سپین کے ہر اقدام کا جواب دیں گے لیکن بیان بازی کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ سپین کو اپنے خدشات سے آگاہ کرتا رہے گا۔