آسٹریلیا: اسلام کو ملک سمجھنے والی امیدوار برطرف

Image caption دنیا بھر سے تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد آسٹریلیا جاتی ہے۔ سٹیفنی بینسٹر کی پارٹی امیگریشن کے خلاف ہے۔

آسٹریلیا میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اسلام کو ایک ملک کہنے والی انتخابی امیدوار نے انتخابات میں حصہ لینے کا اپنا فیصلے تبدیل کر لیا ہے۔

ستائیس سالہ سٹیفنی بینسٹر کوئینزلینڈ میں امیگریشن مخالف ’ون نیسن پارٹی‘ کی امیدوار تھیں۔ سیاست میں ان کا سفر اڑتالیس گھنٹے رہا۔

سٹیفنی کو الفاظ قرآن اور حرام کا فرق بھی معلوم نہ تھا اور ان کے خیال میں یہودی یسوع مسیح کی عبادت کرتے ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں نشر کیے جانے والا یہ انٹرویو سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بہت مقبول ہوا۔

نیوز سیون کو انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میں اسلام کی ایک ملک کے طور پر مخالفت نہیں کرتی مگر میرے خیال میں ان کے قوانین کو یہاں آسٹریلیا میں متعارف نہیں کروانا چاہیے۔‘

سنیچر کو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔

ایک مختصر بیان میں انھوں نے کہا کہ چینل نے جس طرح ان کا انٹرویو پیش کیا، اس کے تحت میں کافی بیوقوف معلوم ہوتی ہوں۔

’میں اپنی پارٹی، دوستوں اور گھر والوں سے معافی مانگتی ہوں۔‘

ایک اخبار کی طنزیہ سرخی تھی کہ سٹیفنی نے حقیقی معنوں میں اسلام کو دنیا کے نقشے پر ڈال دیا ہے۔

ان کی پارٹی کے سربراہ جم سیویج کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سٹیفنی بینسٹرکی حمایت جاری رکھے گی۔

انھوں نے بتایا کہ سٹیفنی شدید دباؤ میں ہیں اور انہوں اور ان کے گھر والوں کو جان کا خطرہ ہے۔

سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو سے پہلے بھی سٹیفنی بینسٹر کے ان انتخابات میں کامیاب ہونے کا امکان کم تھا۔

سٹیفنی بینسٹردو بچوں کی ماہ ہیں۔ وہ منظر ِ عام پر اس وقت آئیں جب انھیں ایک سپر مارکیٹ میں نیسلے کی اشیا پر سٹیکر لگاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ ان سٹیکروں پر لکھا تھا کہ ’حلال اشیا سے دہشتگردی کو فنڈ کیا جاتا ہے‘۔

اس حوالے سے انھیں ’اشیا کو خراب‘ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اگر انھیں اس سلسلے میں سزا ہو جاتی ہے تو وہ انتخابات کے لیے نااہل ہوجائیں گی۔

اسی بارے میں