بدھ متوں کا مسجد پر حملہ، کرفیو نافذ

Image caption زخمی ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی تھے جو مسجد کی حفاظت کے لیح تعینات تھے

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں واقع ایک مسجد پر بودھوں کے ایک گروہ نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ کولمبو کے علاقے گرینڈ پاس میں ہوا۔ مسجد پر حملے کے بعد بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم ہوا اور پولیس نے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

پچھلے ماہ بودھوں کے ایک گروہ نے مسجد کے قریب مظاہرہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ یہ مسجد منتقل کی جائے۔

واضح رہے کہ بودھوں نے حالیہ مہینوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف مہم کو تیز کردیا ہے۔

سنیچر کو ہونے والے تصادم میں کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمی ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی تھے جو مسجد کی حفاظت کے لیح تعینات تھے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نمائندے اعظم امین کو اس علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ شام کی نماز کے وقت بودھوں نے نمازیوں پر پتھراؤ کیا۔

پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ فوری طور پر پولیس اور کمانڈوز کو حالات پر قابو پانے کے لیے بھیجا۔

بودھوں نے کئی بار مسجد پر اعتراض اٹھایا اور آخر میں انہوں نے رمضان کے ختم ہونے تک کی مہلت دی۔ تاہم اس علاقے کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کو سری لنکا کی وزارت برائے مذہبی امور نے اس مسجد کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔

پچھلے ایک سال سے سری لنکا میں بودھوں نے مساجد اور مسلمانوں کی دکانوں کے علاوہ گرجا گھروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اس سال فروری میں ایک بدھ مت گروہ نے حلال کھانوں کے نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بدھ مت الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی لوگوں کے مذہب تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم مسلمان اور عیسائی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں