فلسطینی منفی ردِعمل ظاہر نہ کریں: جان کیری

Image caption جان کیری نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکہ’ان تمام آباد کاری کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔‘

امریکہ نے فلسطینی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے بارہ سو نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری پر’منفی ردِعمل ظاہر نہ کریں۔‘

اسرائیل کی طرف سے نئی بستیوں کی تعیر کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان یروشلم میں امن مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سے قبل براہِ راست مذاکرات بھی ان بستیوں کے اعلان کی وجہ سے معطل ہو گئے تھے۔

فلسطیین اور اسرائیل کے درمیان ستمبر دو ہزار دس کے بعد سے معطل امن مذاکرات بدھ کو دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔

اسرائیل کا 26 فلسطینی قیدی رہا کرنے کا اعلان

اسرائیل اور فلسطین مذاکرات کا دوبارہ آغاز

اسرائیل: یہودی بستیوں کے لیے مزید مراعات

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری سے جب پیر کو ان کے کمبوڈیا کے دورے کے دوران اسرائیل کی طرف سے نئے مکانات تعمیر کرنے کے منصوبے کے فیصلے کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ اعلان کسی حد تک’متوقع تھا۔‘ لیکن انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بدھ کو شروع ہونے والے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔

جان کیری نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکہ’اس آباد کاری کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’میرے خیال میں اس سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذاکرات جلد شروع کر دینے چاہییں اور آباد کاری کے مسئلے کو سرحدی اور سکیورٹی معاملات کو طے کر کے بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’بڑے مسائل پر بات چیت سے آج جو بڑے ایشوز نظر آتے ہیں ختم ہو جاتے ہیں۔‘

جان کیری کا کہنا تھا کہ اس مذاکرات کے سلسلے میں انھوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم اور سینئیر اسرائیلی مذاکرات کار سے بھی بات کی ہے۔

فلسطینی مذاکراتی ٹیم نے اسرائیل پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے جسے اسرائیل نے مسترد کیا ہے۔

فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب اراکات نے پیر کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ ’اگر اسرائیلی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ آبادیاں بنانے کے سلسلے میں حد پار کر سکتی ہے اور وہ اس طرح کے طرزِ عمل کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو وہ مذاکرات کے عدم استحکام کا پرچار کر رہی ہے۔‘

سینئر فلسطینی رہنما ڈاکٹر حنان اشراوی نے پیر کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں اسرائیل جان بوجھ کر امریکہ کو اور باقی دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ مذاکرات کو شروع کرنے کی کسی قسم کی کوششوں کے باوجود ہم لوگ مزید زمین چوری کرنے کے سلسلے کو جاری رکھیں گے اور اس پر مزید آبادیاں بنائیں گے اور دو ریاستی حل کے عمل کو نقصان پہنچائیں گے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ ایک بہت خطرناک پالیسی ہے اور اگر اس پر نظر نہیں رکھی جائے گی تو یہ بڑے خطرات پر منتج ہو گی اور اس کے نتیجے میں امن کے تمام تر امکانات تباہ ہو جائیں گے۔‘

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیو نے اس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ’بستیوں کی تعمیر کسی بھی طرح امن کے منصوبے پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’یروشلم اور دوسرے علاقے جہاں بستیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کسی بھی ممکنہ امن سمجھوتے کے تحت اسرائیل کا حصہ رہیں گے۔‘

تاہم اسرائیل میں مرکز کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جماعت ییش اتید پارٹی کے سربراہ اورموجودہ مخلوط حکومت کے وزیرِ خزانہ ییر لاپیڈ نے آباد کاری کے حوالے سے کہا کہ بستیوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر طلب کرنے کا فیصلہ مذاکرات کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوا۔

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی حکام کے ساتھ شروع ہونے والے امن مذاکرات سے قبل چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی منظوری بھی دی تھی اور یہ قیدی منگل کو رہا ہوں گے۔

یاد رہے کہ فلسطینیوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اسرائیل نے سو سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل کے 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادیوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسی بارے میں