ناروے: ’مسافروں کو پیسے ادا کیے گئے‘

Image caption ینس سٹولٹنبرگ کی جماعت سنہ 2005 سے اقتدار میں ہے

ناروے سے موصول ہونے والی معلومات میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ینس سٹولٹنبرگ نے دارالحکومت اوسلو میں جو ٹیکسی چلائی تھی، اس میں بیٹھنے والے بعض افراد کو پیسے ادا کیےگئے تھے۔

ناروے کی حکمران لیبر پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹیکسی میں جن چودہ مسافروں کی فلم بنائی گئی تھی ان میں سے پانچ مسافروں کو فی کس 55 پاؤنڈ ادا کیے گئے۔

لیبر پارٹی کے مطابق جب ان مسافروں کو ٹیکسی میں بیٹھنے کے لیے کہا گیا تو انھیں یہ نہیں معلوم نہیں تھا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔

خیال رہے کہ ناروے کے وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ناروے کی عوام سے، جو کہ اصل ووٹرز ہیں، اُن کی رائے معلوم کریں اور ٹیکسی میں زیادہ تر افراد اپنی رائے کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔

ینس سٹولٹنبرگ کی جماعت سنہ 2005 سے اقتدار میں ہے اور ناروے کے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں وہ کنٹرویٹو جماعت سے پیچھے ہے۔

ناروے کے وزیرِاعظم کی اوسلو میں ٹیکسی چلانے کی ویڈیو ایک اشتہاری کمپنی کے تعاون سے جون میں بنائی گئی تھی اور اس ویڈیو کو آئندہ ماہ ہونے والی انتخابی مہم میں چلایا جانا تھا۔ تاہم اسے پہلے ہی ینس سٹولٹنبرگ کے فیس بک کے صفحے پر اپ لوڈ کر دیا گیا۔

ناروے کے قدرے کم سنجیدہ اخبار وردن گینگ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وزیرِاعظم کی ٹیکسی میں بیٹھنے والے لوگ مسافر نہیں تھے بلکہ ان کو اس ویڈیو میں شرکت کے لیے اجرت ادا کی گئی تھی۔

ناروے کی لیبر پارٹی کی ترجمان پیا گل برینڈسن کا کہنا ہے کہ وہ پانچ ’عام‘ افراد تھے اور ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ حکمران کی جماعت کی ایک ویڈیو میں شرکت کرنا چاہیں گے؟

زیادہ تر سواریوں کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ اس ٹیکسی ڈرائیور میں کوئی خاص بات ہے۔ کئی نے کہا کہ ’تم بالکل وزیر اعظم کی طرح دکھائی دیتے ہو‘۔

وزیرِاعظم سٹولٹنبرگ نے کسی بھی سواری سے کرایہ وصول نہیں کیا۔

وزیرِاعظم کو ان کی ڈرائیونگ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے ایک موقعے پر زور سے بریک ماری۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آٹومیٹک گاڑی چلا رہے تھے اور وہ بریک کو کلچ سمجھ بیٹھے۔

اسی بارے میں