سنکیانگ میں دو افراد کو سزائے موت

Image caption سینکیانگ میں مسلم گروہ ویغور اور ہان چینی قومیتوں میں نسلی تناؤ موجود ہے

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں تئیس اپریل کو ہونے والی پر پرتشدد جھڑپ کے جرم میں دو افراد کو سزائے موت اور تین کو جیل کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

کاشغر میں ایک گھر کے اندر ہونے والی اس پر تشدد جھڑپ کے دوران 21 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں پندرہ سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

ملک کے سرکاری میڈیا کے مطابق کاشغر میں عدالت کی طرف سے قتل اور دہشت گردی کی جرم میں سزا پانے والے ایک شخص ’دہشت گرد گروپ‘ کے شریک بانی موسٰی حسین اور دوسرے رحمٰن ہیورپور ہیں۔تین دوسرے افراد کو نو سال سے عمر قید تک کی سزائیں دی گئی ہیں۔

چین: سنکیانگ میں فسادات، 21 افراد ہلاک

چین اور ویغور آبادی، طویل اختلافات کی تاریخ

چین کی سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا نے عدالت کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ’ یہ دہشت گروپ ملک میں غیر قانونی طور پر مذہبی سرگرمیوں اور مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے میں ملوث رہا ہے۔‘

شن ہوا کے مطابق اس گروپ نے ’دس دھماکا خیز آلات بھی بنائے اور دھماکوں کے ٹیسٹ کیے۔‘

حکومت کا موقف ہے کہ اپریل میں یہ فساد اس وقت شروع ہوا جب امدادی کارکنوں نے اسلحہ ڈھونڈنے کے لیے ایک خاندان کے مکان کی تلاشی لی تھی۔

لیکن مقامی لوگوں کے مطابق حکام اس خاندان پر داڑھیاں منڈوانے اور خواتین کو پردہ نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

سنکیانگ سے خبروں کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔ اس خطے میں غیر ملکی صحافیوں کو سفر کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم خبروں کی تصدیق کے لیے انھیں اکثر اوقات ہراساں کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کی ایک ٹیم جب اس واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے جائے وقوع پر پہنچی تو انھیں ایک سرکاری عمارت میں لے جایا گیا اور بالا آخر انھیں علاقہ چھوڑنے کا کہا گیا۔

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں مسلم آبادی اکثریت میں ہے اور یہاں حالیہ برسوں کے دوران فسادات ہوتے رہے ہیں جن کا الزام حکومت اکثر ویغور مسلمانوں پر لگاتی رہی ہے جبکہ ویغور حکومت پر ان کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے بہانے ڈھونڈنے کا الزام لگاتے ہیں۔

سنکیانگ میں مسلم ویغور آبادی اور ہان چینی قومیتوں میں نسلی تناؤ موجود ہے۔

واضح رہے کہ چین کے مغربی صوبے میں پانچ جولائی سنہ 2009 کو ہونے والے فسادات میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت کا تعلق ہان قومیت سے تھا۔

اسی بارے میں