اسرائیل فلسطین امن مذاکرات کا آغاز

Image caption گذشتہ رات اسرائیل نے مذاکرات کی بحالی کے لیے خیر سگالی کے طور پر چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تین سال میں پہلی بار براہِ راست امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔

یروشلم میں ایک نامعلوم مقام پر پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تاہم حکام نے بات چیت کو سنجیدہ نوعیت کا قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ اگلا دور آنے والے ایک یا دو ہفتوں میں ہوگا۔

مذاکرات کے آغاز سے قبل ان کے ایجنڈے، مقام اور وقت کے بارے میں دونوں جانب سے کم ہی تفصیلات دی گئیں اور دونوں جانب سے ان کی کامیابی کے بارے میں بھی محتاط بیانات سامنے آئے ہیں۔

گذشتہ رات اسرائیل نے مذاکرات کی بحالی کے لیے خیر سگالی کے طور پر چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے تازہ اعلانات کی وجہ سے امن مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

ستمبر دو ہزار دس میں بھی یہودی بستیوں کے معاملے کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے اور اس بار بھی فلسطینی مذاکراتکاروں نے اسرائیل پر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔

گذشتہ چند روز میں اسرائیل نے دو ہزار نئے مکانات بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

فلسطین لیبریشن آرگینائزیشن کے اہلکار یاسر عبد ربو کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر ’ ناقابلِ قبول‘ ہے۔

وائس آف فلسطین ریڈیو سے بات کرتے ان کا کہنا تھا ’ اسرائیل کے اس اقدام کی وجہ سے مذاکرات کسی بھی وقت ناکام ہو سکتے ہیں‘۔

ادھر اسرائیل کی جانب بھی کئی شبہات پائے جاتے ہیں۔

اسرائیلی جریدے ’دی یروشلم پوسٹ‘ نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ ان مذاکرات کے حوالےسے امیدیں بہت مدھم ہیں۔

اخبار نے وزیرِ دفاع موشے یالون کے حوالے سے لکھا ’ ہم اوسلو کے بعد گذشتہ بیس برسوں سے ، اور ایک سو بیس سال قبل تنازعے کے آغاز سے کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو میرے بیان میں ہی شبہات کا عکس دکھائی دے رہا ہے لیکن ہم نے اسے ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

تاہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر یاکوو پیری کا کہنا تھا کہ کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’ہمارے پاس اس تنازع کے لیے زیادہ مواقع نہیں ہیں۔‘

مذاکرات میں فلسطینیوں کی نمائندگی صائب عریقات اور الفتح کے اہلکار محمد شطایح کر رہے ہیں اور اسرائیل کی جانب سے وزیرِ انصاف تسپی لونی اور وزیرِ اعظم کے مشیر اسحاق مولخو شامل ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے امن ایلچی مارٹن انڈیک اور ان کے نائب فرینک لوئنسٹن بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔

اگرچہ مذاکرات کا ایجنڈہ بتایا نہیں گیا تاہم امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے اس سے قبل کہا تھا کہ تمام مسائل جن میں یروشلم، سرحدیں، سکیورٹی امور ، یہودی بستیاں اور فلسطینی مہاجرین کے مسائل زیرِ بحث آئیں گے۔

واضح رہے کہ یروشلم میں اسرائیل کی آباد کاری کے باعث فلسطین اور اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات سنہ 2010 سے تعطل کا شکار تھے۔ یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہے تاہم اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔

اسرائیل کے 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادیوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسی بارے میں