امریکہ کو تکلیف پہنچانے پر میننگ کی’معافی‘

Image caption میننگ کو سزا کے بارے میں سماعت بدھ سے شروع ہو گی

وکی لیکس کو امریکہ کی خفیہ حکومتی معلومات فراہم کرنے والے امریکی فوجی بریڈلی میننگ نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کے اقدام سے امریکہ اور لوگوں کو تکلیف ہوئی اور وہ معافی کے خواستگار ہیں۔

پچیس سالہ میننگ نے یہ بات امریکی ریاست میری لینڈ میں اپنے کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران ایک بیان میں کہی ہے۔

وکی لیکس: میننگ کا کورٹ مارشل

’جنگی رپورٹس اور خفیہ دستاویزات افشا کیں‘

فوجی عدالت نے بیس جولائی کو بریڈلی میننگ کو جاسوسی اور چوری سمیت دیگر الزمات کے تحت مجرم قرار دیا تھا تاہم ان پر’دشمن کی مدد‘ کا ملزم قرار نہیں دیا گیا۔

میننگ پر جو الزامات ثابت ہوئے ہیں ان کے تحت انہیں 90 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وہ پہلے ہی ہزاروں جنگی رپورٹس اور سفارتی پیغامات وکی لیکس کو فراہم کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

بدھ کو عدالت کے سامنے اپنے بیان میں بریڈلی میننگ نے کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میرے اقدامات سے لوگوں کو تکلیف پہنچی۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ اس سے امریکہ کو تکلیف ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے اقدامات کے غیرمتوقع نتائج پر معافی کا طلبگار ہوں۔ گزشتہ تین برس میں میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جب میں نے یہ فیصلے کیے تو میں لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا بلکہ میں تو ان کی مدد کا خواہاں تھا۔‘

میننگ نے کہا مقدمے کی سماعت اور قید کے بعد اب ان کا یقین ہے کہ انہیں نظام میں رہتے ہوئے ہی ان تبدیلیوں کے لیے کام کرنا چاہیے تھا جو وہ لانا چاہتے تھے۔

Image caption بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی امریکہ کی قومی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے بلکہ اس بات کے خواہاں تھے کہ یہ دستاویزات عام ہونے سے امریکہ کی فوجی اور خارجہ پالیسی کے بارے میں عوامی سطح پر بحث ہو۔

بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے اقدامات کی قیمت ادا کرنا پڑے گی لیکن انہیں امید ہے کہ وہ ایک دن اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جوڑیں گے اور اپنے اہلخانہ سے ایک بامعنی تعلق قائم کر پائیں گے۔

سپاہی بریڈلی میننگ نے دو ہزار سات میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔عراق میں فوجی تجزیہ کار کے طور پر تعینات میننگ کو مئی سال دو ہزار دس میں عراق سے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں امریکہ منتقل کرنے سے پہلے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر کئی ہفتوں تک قید میں رکھا گیا تھا۔

خفیہ معلومات کے تجزیہ کار کے طور پر امریکی فوج میں کام کرنے والے میننگ نے مبینہ طور پر وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں جن کی اشاعت سے دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

ان میں افغانستان اور عراق کی جنگ سے متعلق چار لاکھ ستر ہزار دستاویزات کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کی دو لاکھ پچاس ہزار دستاویز بھی شامل تھیں جن میں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کے واشنگٹن کو بھیجے جانے والے مراسلے شامل تھے۔

دنیا بھر میں بریڈلی میننگ کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ ان دستاویزات کو منظرِ عام پر لانا ضمیر کی آواز تھی۔ بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنگی جرائم سے پردہ ہٹایا اور خِلیجی ممالک میں عرب سپرنگ کے نام سے یاد کیے جانے والے جمہوریت کے لیے تحریک کو متحرک ہونے میں مدد کی۔

اسی بارے میں