ہلاکتوں کی تعداد 525، ’مصر پُرخطر راہ پر ہے‘

مصر کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کو معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 525 تک جا پہنچی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد جمعرات کو بھی قاہرہ میں حالات انتہائی کشیدہ رہے اور محمد مرسی کے حامیوں نے ایک سرکاری عمارت کو نذرِ آتش کیا ہے جبکہ حکام نے محمد مرسی کی مدتِ قید میں مزید تیس دن کا اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے مصر میں فوج کی جانب سے عوام کے خلاف جارحانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

ہلاکتوں میں اضافہ، مظاہرے جاری

Image caption مصر کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ پرتشدد جھڑپوں میں 137 افراد مسجد رابعہ العدویہ کے قریب، نہدا سکوئر میں 57 ، ہیلوان میں 29 اور 198 افراد دوسرے صوبوں میں ہلاک ہوئے ہیں

مصر میں وزارت صحت کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ سو پچیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ مصری وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ پولیس کو اپنے دفاع اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیےگولی چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بدھ کو ہونے والے آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اضافے کی وجہ بہت سی لاشوں کی گنتی نہ ہونا ہے کیونکہ حکام نے صرف ان لاشوں کو ہی گنا ہے جنہیں ہسپتالوں میں لایا گیا تھا۔

تصاویر: مصر میں تشدد کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ

اخوان المسلمین کے حامیوں نے جمعرات کو کچھ افراد کو سپردِ خاک بھی کیا ہے لیکن اب بھی بہت سی لاشیں قاہرہ میں نصر سٹی کے علاقے کی مساجد میں شناخت کی منتظر ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے مسجد رابعہ العدویہ پر واقع مرکزی احتجاجی کیمپ کے پاس واقع مسجدِ ایمان میں خود 202 لاشیں دیکھیں جن میں سے اکثر ہلاک شدگان کے سرکاری اعدادوشمار میں شامل نہیں ہیں۔

نامہ نگار جیریمی بوئن کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی لاشیں اتنی جلی ہوئی تھیں کہ ان کی شناخت ہی ممکن نہیں تھی۔

اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ بدھ کو آپریشن میں دو ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے۔ تنظیم کے مطابق انہوں نے 300 لاشیں مسجدِ ایمان منتقل کی ہیں جبکہ دیگر لاشوں کو کھیلوں کے مراکز میں لے جایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کے لواحقین اور ہسپتال اہلکاروں کے درمیان ہلاکتوں کے اندراج کے حوالے سے لڑائیاں ہوئی ہیں۔

مصر کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں مسجد رابعہ العدویہ کے قریب137 افراد ، نہدا سکوئر میں 57 ، ہیلوان میں 29 اور 198 افراد دوسرے صوبوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مصری وزارتِ داخلہ کے مطابق جھڑپوں میں 43 پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

قاہرہ میں مصری سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد جمعرات کو بھی دارالحکومت سمیت مصر کے متعدد شہروں میں حالات کشیدہ رہے۔

جمعرات کو معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے سینکڑوں حامیوں نے قاہرہ کے نزدیک ایک سرکاری عمارت کو نذرِ آتش کر دیا۔ مقامی ٹی وی پر آگ بجھانے والے عملے کو غزہ کی مقامی حکومت کی عمارت سے ملازمین کو نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ میں بھی اخوان المسلمین کے حامیوں اور مقامی آبادی کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مصری فوج کے مطابق جمعرات کو ہی صحرائے سینا میں العریش کے شہر کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے سات مصری فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اخوان المسلمین کئی ہفتوں سے جولائی میں صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔تنظیم نے جمعرات کے روز قاہرہ اور ملک کے دوسرے بڑے شہر سکندریہ میں ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔

مظاہرین نے مسجدِ رابعہ اور نہدہ چوک میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے دھرنا دے رکھا تھا اور اس دوران سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں پہلے ہی ڈھائی سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ معزول صدر مرسی کو بحال کیا جائے جنھیں فوج نے تین جولائی کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران اخوان المسلمین کے اہم ارکان کو حراست میں بھی لیا گیا اور کارروائی کے بعد ملک میں ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت اور دارالحکومت قاہرہ اور دیگر چند شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

مصر کے عبوری وزیراعظم نے بدھ کی شام ٹی وی پر خطاب میں سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک سے ہنگامی حالت جتنی جلدی ممکن ہوئی اٹھا لی جائے گی جبکہ ملک کے نائب صدر محمد البرادعی نے اس کارروائی پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

عالمی ردِعمل

مصر میں حکام کی طرف سے ملک کے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف پُرتشدد کارروائی کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے۔

امریکہ نے اس ماہ کے آخر میں مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کر دی ہیں اور امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مصر میں شہریوں کی ہلاکتوں اور حقوق انسانی کی تلافی کے دوران ان کے ساتھ فوجی تعاون جاری نہیں رہ سکتا۔

جمعرات کو اپنے بیان میں براک اوباما نے مصر کی عبوری حکومت کے اقدامات کی جانب سے دھرنے پر بیٹھے عوام کو ہٹانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر ایک خطرناک راستے پر ہے اور عبوری حکومت کو تشدد ختم کرکے قومی مفاہمت کے عمل کی جانب بڑھنا چاہیے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کسی جماعت یا سیاسی شخصیت کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔‘

حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی کمشنر نوی پلے نے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انکوائری کروائی جائے

ان کے علاوہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے مصر میں ہلاکتوں کو ’قتلِ عام‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا نے اپنے ٹی وی سٹیشنوں سے دیکھا کہ مصر میں بغاوت کرنے والوں نے ان لوگوں کا قتلِ عام کیا جو کہ جمہوریت میں اپنے ووٹوں کی اہمیت منوانا چاہتے تھے۔ ہم شروع سے اس کو ایک بغاوت کہہ رہے ہیں مگر مغربی ممالک نے اسے بغاوت نہیں کہا اور انہوں نے نرم لہجے میں اسے ایک مداخلت کہا۔‘

ترک وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہادت میں یقین رکھنے والے مصری عوام کو ان کے حقوق مل ہی جائیں گے۔ اگر مغربی ممالک نے اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کے بارے میں نہ سوچا تو پھر پوری دنیا میں جمہوریت پر سوالات اٹھانے والے مصر کے وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے فوجی بغاوت کے خلاف آواز اٹھائی اور انہوں نے تشدد یا ہتھیاروں کا راستہ تمام تر جواز کے باوجود اختیار نہیں کیا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہم مصر میں حالات پر بہت تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تصادم اور تشدد سے ملک کے مرکزی سیاسی اور دیگر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ مصری سکیورٹی فورسز کو دھرنا ختم کروانا تھا مگر اس معاملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات انتہائی پریشان کن ہے۔‘

ویڈیو: مصر میں بڑھتا ہوا بحران

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

قاہرہ میں بدھ کو ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اخوان المسلمین نے مزید مظاہروں کی کال دی ہے۔ مصر کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو ملک بھر میں پاس سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اخوان المسلمین کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔ تفصیل نصرت جہاں سے

مصر کا مستقبل داؤ پر لگا ہے

Image caption قاہرہ میں بدھ کو ہلاک ہونے والے ایک پولیس اہلار کے جنازے کے موقع پر چند سرکاری ملازم کھڑکی سے جھانک رہی ہیں

مصر کے تنازع میں فریقین کم از کم ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یہ اس میں ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ان کا دعویٰ غلط نہیں۔

دارالحکومت قاہرہ اور مصر کے دیگر شہروں میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ اس کے اثرات اگلی نسل کو بھی منتقل ہوں گے۔

وہ جوش و خروش جو فروری 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے موقع پر قوم میں مجموعی طور پر پایا جاتا تھا اب بہت پرانی داستان لگتا ہے۔

آج کے مصر میں عمومی رویہ یہی ہے کہ ’جو بھی فاتح ہے، سب کچھ اسی کا ہے۔‘

اخوان المسلمین کے صدر محمد مرسی کی معزولی اور انہیں قید کیے جانے سے قبل اپنے دورِ اقتدار میں وہ بھی اپنے وعدے کے برعکس تمام مصریوں کے صدر ثابت نہیں ہوئے۔

اخوان المسلمین نے 1928 سے برسرِاقتدار آنے کی جدوجہد شروع کی تھی اور موقع ملنے پر صدر مرسی اور ان کی جماعت قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی بجائے مصر کی شکل تبدیل کا موقع ہاتھ سے جانے دینے کو تیار نہیں تھی۔

اور اب فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی اور ان کے حامی بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ جمہوری سیاست کو رواج دینا چاہتے ہیں لیکن اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی شدت ہی اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اس سیاسی قوت کو دبانا ہی نہیں بلکہ ختم کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اور پھر ہمیشہ کی طرح تمام عرب دنیا کی نظریں مصر کے ان حالات پر جمی ہوئی ہیں۔

اٹھارہ ماہ قبل عرب ممالک میں انقلابوں کی لہر کے دوران اخوان المسلمین اور دیگر عرب ممالک میں اس کے ہم خیال یا حامی انتخابات میں بھی سب سے آگے نظر آئے تھے۔

لیکن اب اس جیت کا ردعمل سامنے آ رہا ہے جس کا دائرہ مصر سے آگے بھی پھیل سکتا ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قاہرہ میں دھرنا دینے والے اخوان المسلمین کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف کارروائی نے مصر کے بحران کا حل نہیں دیا بلکہ اسے کہیں زیادہ گہرا اور شدید کر دیا ہے۔

اسی بارے میں