مصر: ہلاکتوں میں اضافہ، ’سرکاری عمارت نذرِ آتش‘

Image caption مصر کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ پرتشدد جھڑپوں میں 137 افراد مسجد رابعہ العدویہ کے قریب، نہدا سکوئر میں 57 ، ہیلوان میں 29 اور 198 افراد دوسرے صوبوں میں ہلاک ہوئے ہیں

مصر میں وزارت صحت کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ٹی وی رپورٹس کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں محمد مرسی کے حامیوں نے سرکاری عمارت پر دھاوا بول دیا اور اس کو آگ لگا دی ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔

اخوان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ اخوان کے سینکڑوں حامیوں نے قاہرہ میں ایک سرکاری عمارت کو آگ لگا دی جبکہ سکندریہ میں بھی مظاہرہ ہو رہا ہے۔

دریں اثنا جوڈیشل حکام نے معزول صدر مرسی کی قید مزید تیس دنوں کے لیے بڑھا دی ہے۔

’مصر کا مستقبل داؤ پر لگا ہے‘

تصاویر: مصر میں تشدد کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی میں سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد بدھ کو ملک میں ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی اور کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مصر کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کے گئے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو ملک بھر میں کم از کم 525 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مصر کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ پرتشدد جھڑپوں میں 137 افراد مسجد رابعہ العدویہ کے قریب، نہضہ سکوئر میں 57 ، ہیلوان میں 29 اور 198 افراد دوسرے صوبوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مصری وزارتِ داخلہ کے مطابق جھڑپوں میں 43 پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب اخوان المسلمین نے دو ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

مصر میں حکام کی طرف سے ملک کے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف پْرتشدد کارروائی کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے۔

امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری نے کہا کہ پرتشدد کارروائی ’قابلِ مذمت ہے‘ جن سے مفاہمت کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور مسئلے کا سیاسی حل اب مزید مشکل ہوگیا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ’مصری عوام کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ تشدد کا راستہ مزید عدم استحکام، معاشی تباہی اور بدحالی کی طرف جاتا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے بھی طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ یہ قابلِ افسوس ہے کہ مصری حکام نے بات چیت پر طاقت کے استعمال کو ترجیح دی۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ’مجھے معلوم ہے کہ مصر کی زیادہ تر عوام امن، خوشحالی ا ور جمہوریت کی طرف جانا چاہتے ہیں۔‘

یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’ صرف مصری اور بین الاقوامی برادری کی اجتماعی کوششوں سے ہی شاید مصر ہمہ گیر جمہوریت کی طرف جا سکتا ہے اور اس کے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے مصر کی صورتِ حال پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تشدد سے ’کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا‘

انھوں نے کہا کہ’مصر کے لیے جمہوریت کی طرف جانا ضروری ہے جس کا مطلب ہے کہ تمام فریقین نے سجھوتہ کرنا ہوگا۔‘

ترکی نے قاہرہ میں پیش آنے والے واقعات کو قتلِ عام قرار دیا ہے جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اب مصر میں خانہ جنگی کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

یورپی ممالک کی جانب سے بھی مصر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور جہاں فرانس نے تشدد کی مذمت کی ہے وہیں جرمنی کا کہنا ہے کہ حالات ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ سکیورٹی فورسز نے بدھ کو قاہرہ میں محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں کے دو کیمپوں پر دھاوا بول کر ان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران اخوان المسلمین کے اہم ارکان کو حراست میں بھی لیا گیا اور کارروائی کے بعد دارالحکومت قاہرہ اور دیگر چند شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

مصری ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں ہنگامی حالت اور شہروں میں کرفیو کے نفاذ کے اقدامات کی وجہ ’شدت پسند گروہوں کی جانب سے عوامی اور سرکاری املاک پر حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان سے قوم کو لاحق خطرات ہیں۔‘

حکومتی افواج کی کارروائی کے بعد مصر کے نائب صدر محمد البرادعی نے بدھ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں اب ان فیصلوں کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا جن سے میں اتفاق نہیں کرتا اور مجھے اس کے نتائج کا خوف ہے۔ میں خون کے ایک بھی قطرے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔‘

مصر کے عبوری وزیراعظم نے بدھ کی شام ٹی وی پر خطاب میں سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک سے ہنگامی حالت جتنی جلدی ممکن ہوئی اٹھا لی جائے گی۔

اس کے علاوہ مصری وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ مسلح گروہ محمد مرسی کے حامیوں میں شامل ہوگئے تھے اور بدھ کو مصر بھر میں 43 پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب کسی کو ملک میں کسی بھی جگہ دھرنا دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سکیورٹی اہلکاروں نے محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی بدھ کی صبح شروع کی تھی اور ریاستی ٹی وی پر قاہرہ کے مشرق میں واقع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر مرکزی احتجاجی کیمپ میں اہلکاروں کوگھستے ہوئے دکھایا گیا۔

اس کے علاوہ حکام نے کہا تھا کہ مغربی قاہرہ میں واقع نہضہ چوک کو بھی خالی کروا لیا گیا۔

مظاہرین نے مسجدِ رابعہ اور نہضہ چوک میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے دھرنا دے رکھا تھا اور اس دوران سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں پہلے ہی ڈھائی سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ معزول صدر مرسی کو بحال کیا جائے جنھیں فوج نے تین جولائی کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔

بی بی سی عربی کے نامہ نگار خالد ازلارب کا کہنا تھا کہ مسجد رابعہ العدویہ کے قریب بنائے گئے عبوری ہسپتالوں میں انھوں نے خود پچاس لاشیں گنی ہیں۔ جائے وقوع سے نامہ نگاروں نے بتایا تھا زخمی مظاہرین کا قریب میں میدانِ جنگ کے طرز پر بنائے گئے ہسپتالوں میں علاج کیا گیا۔

اسی بارے میں